ایپل انکارپوریٹڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے میک منی ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر کی پیداوار کا ایک حصہ ایشیا سے ہٹا کر امریکہ منتقل کرے گا۔ یہ اقدام ایپل کی وسیع پیمانے پر سپلائی چین کو دوبارہ امریکی سرزمین پر لانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ کمپنی کے چیف آپریٹنگ آفیسر صبِیح خان کے مطابق، نئی پیداوار کا آغاز اس سال کے آخر میں ہو گا اور یہ ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن کے شمال میں واقع فوکس کن کی ایک سہولت میں کیا جائے گا۔ اس مقام پر دو اہم عمارتیں موجود ہیں، جن میں سے ایک میں ایپل کے مصنوعی ذہانت کے سرورز کی اسمبلی کی جاتی ہے جبکہ دوسری ایک وسیع گودام ہے جسے تقریباً 220,000 مربع فٹ کے رقبے میں میک منی کی پیداوار کے لیے تبدیل کیا جائے گا۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ایپل نے گزشتہ سال اگست میں امریکہ میں چار سالوں میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا، اور میک منی کی پیداوار کی منتقلی اس وعدے کا ایک حصہ ہے۔ میک منی ایپل کا ایک مخصوص اور نچلی مارکیٹ کا پراڈکٹ سمجھا جاتا ہے، جس کی عالمی میک کمپیوٹرز کی فروخت میں حصہ پانچ فیصد سے بھی کم اور کل فروخت میں ایک فیصد سے بھی کم ہے۔
ایپل کی یہ حکمت عملی عالمی سپلائی چین میں پائے جانے والے مسائل اور تجارتی کشیدگیوں کے پیش نظر اپنی پیداوار کو زیادہ مستحکم اور ملکی سطح پر لانے کی کوششوں کا مظہر ہے۔ اس سے نہ صرف امریکی معیشت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے بلکہ کمپنی کی پیداوار کی لاگت اور وقت میں بھی بہتری آ سکتی ہے۔ تاہم، اس تبدیلی کے دوران ممکنہ چیلنجز بھی سامنے آ سکتے ہیں، جیسے کہ پیداوار کی منتقلی سے متعلق تکنیکی اور لاجسٹک مسائل، اور نئے ماحول میں کام کرنے کی پیچیدگیاں۔
ایپل عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں اپنی مضبوط پوزیشن کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل اپنی سپلائی چین کو بہتر بنانے اور مقامی بنانے کی کوشش کر رہا ہے، اور میک منی کی پیداوار کی یہ منتقلی بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance