ایپل آئی فون ہیکنگ کٹ جاسوسی اور کرپٹو فراڈ میں استعمال، امریکی انٹیلی جنس مداخلت کا امکان

زبان کا انتخاب

تحقیقی رپورٹس کے مطابق، ایک انتہائی پیچیدہ ہیکنگ کٹ سامنے آئی ہے جو 23 مختلف آئی او ایس کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتی ہے۔ اس کٹ کا استعمال نہ صرف جاسوسی مہمات میں ہو رہا ہے بلکہ کرپٹو کرنسی سے متعلق فراڈ کے لیے بھی کیا جا رہا ہے۔ یہ کٹ خاص طور پر ایپل کے آئی فونز کو ہیک کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے، جس کے ذریعے ہیکرز صارفین کی ذاتی معلومات، مالیاتی ڈیٹا اور حساس معلومات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
ایپل کی آئی او ایس آپریٹنگ سسٹم محفوظ سمجھا جاتا ہے اور دنیا بھر میں لاکھوں افراد اس کا استعمال کرتے ہیں، خاص طور پر اس کی سخت سیکیورٹی کی وجہ سے۔ تاہم، ہیکرز نے حالیہ برسوں میں اس نظام کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے متعدد حملے کیے ہیں۔ اس نئی دریافت کے مطابق، یہ ہیکنگ کٹ نہ صرف عام سائبر کرائم کے لیے استعمال ہو رہی ہے بلکہ اسے خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے بھی استعمال کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، خاص طور پر امریکی انٹیلی جنس اداروں کی طرف سے۔
یہ کٹ اتنی مہارت سے تیار کی گئی ہے کہ ہیکرز کو صارف کے علم کے بغیر ہی آئی فون پر مکمل کنٹرول حاصل ہو جاتا ہے۔ اس طرح کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر ہیکرز صارف کی سیکیورٹی کو شدید خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ کرپٹو کرنسی فراڈ میں اس ہیکنگ کٹ کا استعمال اس لیے بھی خطرناک ہے کیونکہ یہ فراڈ کرنے والوں کو صارفین کے والٹس اور ٹرانزیکشن ڈیٹا تک رسائی فراہم کرتا ہے، جس سے بڑی مالی نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے۔
آئندہ بھی ایسے حملے بڑھنے کا خدشہ ہے کیونکہ موبائل سیکیورٹی کی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے اور ہیکرز نئی تکنیکوں کو اپنانے میں تیزی دکھا رہے ہیں۔ صارفین کو چاہیے کہ وہ اپنے ڈیوائسز کو اپ ٹو ڈیٹ رکھیں اور غیر معروف لنکس یا ایپلیکیشنز سے محتاط رہیں۔ ایپل نے بھی اپنی جانب سے حفاظتی اپ ڈیٹس جاری کرنے کا سلسلہ تیز کر دیا ہے تاکہ ان کمزوریوں کا سد باب کیا جا سکے۔
یہ واقعہ موبائل سیکورٹی اور ڈیجیٹل کرپٹو کرنسی کی دنیا میں ایک سنگین انتباہ ہے کہ تکنیکی ترقی کے ساتھ ساتھ سائبر سیکیورٹی کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے مربوط اور جدید حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے