امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق، ان تھروپک کمپنی کی مصنوعی ذہانت کلاؤڈ کو امریکی سینٹرل کمانڈ میں شامل کیا گیا تھا، جبکہ وائٹ ہاؤس نے وفاقی اداروں کو کمپنی سے تمام روابط ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ پیش رفت امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دوران سامنے آئی جب انہوں نے ان تھروپک سے تعلقات کم کرنے کے اقدامات شروع کیے۔
ان تھروپک ایک معروف مصنوعی ذہانت کی کمپنی ہے جس نے جدید زبان سمجھنے اور پیدا کرنے والے ماڈلز تخلیق کیے ہیں، جنہیں کلاؤڈ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ کمپنی امریکی ٹیکنالوجی سیکٹر میں ایک اہم مقام رکھتی ہے اور اس کی خدمات مختلف سرکاری اور نجی شعبوں میں استعمال ہوتی ہیں۔ تاہم، قومی سلامتی کے خدشات کے باعث ٹرمپ انتظامیہ نے ان تھروپک کے ساتھ تعلقات محدود کرنے کی کوشش کی۔
اس کے باوجود، رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ امریکی فوجی کمانڈ نے ان تھروپک کی مصنوعی ذہانت کو ایران کے خلاف عسکری کارروائیوں میں استعمال کیا، جس سے اس ٹیکنالوجی کی اہمیت اور حساسیت بڑھ گئی ہے۔ یہ صورتحال امریکی دفاعی اور حکومتی اداروں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حوالے سے پیچیدہ سوالات کو جنم دیتی ہے، خاص طور پر جب سیاسی اور سلامتی کے خدشات اس ٹیکنالوجی کے اطلاق پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور اس کے عسکری استعمال پر غور و فکر کے دوران، یہ بات واضح ہے کہ مستقبل میں اس قسم کی ٹیکنالوجی کے استعمال اور اس کی نگرانی کے حوالے سے مزید پیچیدگیاں سامنے آ سکتی ہیں۔ علاقائی تنازعات میں مصنوعی ذہانت کا کردار بڑھتا جا رہا ہے، جس سے بین الاقوامی سطح پر اس کے استعمال کے ضوابط اور اخلاقی پہلوؤں پر بھی بحث جاری ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt