ان تھراپک کے سی ای او کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی معاشرتی کنٹرول سے آگے نکل گئی ہے

زبان کا انتخاب

ان تھراپک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر داریو امودی نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے خطرات بڑھ رہے ہیں جبکہ اس کی نگرانی اور ضوابط ترقی کی رفتار کے مطابق نہیں ہو رہے۔ ان تھراپک ایک معروف AI تحقیقاتی کمپنی ہے جو جدید ترین زبان اور ذہانت کی مشینوں کی تخلیق میں مصروف عمل ہے۔ کمپنی کے مطابق، AI کی تیز رفتار ترقی نے معاشرتی، اخلاقی اور تکنیکی چیلنجز کو جنم دیا ہے، جنہیں موجودہ قوانین اور قواعد و ضوابط سے قابو پانا مشکل ہو رہا ہے۔
گذشتہ چند سالوں میں مصنوعی ذہانت نے مختلف شعبہ جات میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جس میں خودکار گاڑیاں، زبان کی سمجھ بوجھ، تصاویر کی شناخت اور دیگر کئی شعبے شامل ہیں۔ تاہم، ان پیش رفتوں کے ساتھ ساتھ AI کے استعمال سے پیدا ہونے والے خطرات جیسے کہ پرائیویسی کی خلاف ورزیاں، آٹومیشن کے باعث روزگار کے مسائل، اور خود مختار نظاموں کی غلطی یا غلط استعمال کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ ان تھراپک جیسی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ AI کی تیز رفتار ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی سطح پر مضبوط اور جامع پالیسی سازی کی اشد ضرورت ہے تاکہ اس ٹیکنالوجی کے فوائد کو زیادہ سے زیادہ کیا جا سکے اور ممکنہ نقصانات کو کم سے کم رکھا جا سکے۔
دوسری جانب، ان تھراپک خود اپنی تحقیق اور ترقی کو جاری رکھے ہوئے ہے، جس کا مقصد زیادہ محفوظ اور ذمہ دار AI سسٹمز تیار کرنا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر مناسب ضوابط نہ بنائے گئے تو AI کے بڑھتے ہوئے خطرات معاشرتی اور اقتصادی سطح پر سنگین مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ اس لئے حکومتوں، صنعتوں اور محققین کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ AI کی ترقی کو ایک مثبت اور محفوظ راستے پر گامزن رکھا جا سکے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش