امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ تصادم اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وارننگ

زبان کا انتخاب

آر بی سی کی تجزیہ کار ہیلیما کرافٹ نے امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ تنازعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ علاقائی رہنماؤں نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ عالمی تیل کی قیمتوں کو شدید متاثر کر سکتا ہے اور یہ قیمتیں ایک سو ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں۔ اس صورتحال سے عالمی مارکیٹ کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے کیونکہ جغرافیائی سیاسی کشیدگیاں توانائی کی قیمتوں اور اقتصادی استحکام پر گہرے اثرات ڈالتی ہیں۔
ایران اور امریکہ کے تعلقات گزشتہ کئی سالوں سے کشیدہ رہے ہیں، خاص طور پر امریکہ کی طرف سے ایران پر عائد پابندیوں اور ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے تناؤ کی وجہ سے۔ تیل کی عالمی مارکیٹ میں ایران کے کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے، اگر ان کشیدگیوں میں اضافہ ہوتا ہے تو تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں قیمتوں میں اضافہ ہو جانا ایک عام توقع ہے۔
ماضی میں بھی مشرق وسطیٰ میں سیاسی عدم استحکام نے تیل کی قیمتوں پر نمایاں اثر ڈالا ہے، جس کی وجہ سے عالمی معیشت میں عدم یقینیت اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ ایسے میں سرمایہ کار اور حکومتی ادارے ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے محتاط انداز اختیار کر رہے ہیں۔
اگرچہ ابھی تک کوئی واضح جھڑپ یا جنگ کا آغاز نہیں ہوا، لیکن اس قسم کے تناؤ سے مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ عالمی معیشت کے لیے توانائی کی قیمتوں میں استحکام بہت اہم ہے، لہٰذا اس قسم کے جغرافیائی سیاسی مسائل کو حل کرنا عالمی اقتصادی استحکام کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے