امریکہ کی اوپن سورس اے آئی کی دوڑ: دو لیبز، ایک سوال—کیا امریکہ مقابلہ کر پائے گا؟

زبان کا انتخاب

امریکہ میں دو اہم تحقیقی ادارے، ڈیپ کوگیٹو اور ایلن انسٹی ٹیوٹ، اوپن سورس مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں چینی حریفوں کے مقابلے کے لیے اپنی الگ الگ کوششیں کر رہے ہیں۔ ڈیپ کوگیٹو کا ماڈل چین کی بنیادوں پر تعمیر کیا جا رہا ہے، جبکہ ایلن انسٹی ٹیوٹ نے مکمل طور پر نئی بنیادوں سے آغاز کیا ہے۔ یہ دونوں ادارے چین کی اوپن اے آئی میں بڑھتی ہوئی اجارہ داری کو چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اوپن سورس اے آئی میں چینی کمپنیاں خاصی پیش رفت کر چکی ہیں اور عالمی سطح پر ان کا اثر بڑھ رہا ہے، جس نے امریکی تحقیق کاروں کو بھی اس میدان میں تیزی سے قدم جمانے پر مجبور کیا ہے۔ ڈیپ کوگیٹو کا ماڈل چینی ٹیکنالوجیز کی مضبوط بنیادوں پر مبنی ہے، جو ان کی پیشرفت کو تیز کرنے میں مدد دے گا، جب کہ ایلن انسٹی ٹیوٹ کی کوشش نئی تحقیق اور تخلیقی حل پیش کرنے پر مرکوز ہے۔
یہ دوڑ اس وقت اہم ہو گئی ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت میں عالمی برتری مستقبل کی ٹیکنالوجی، معیشت اور سیکیورٹی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ امریکہ کی یہ کوششیں اس بات کی علامت ہیں کہ وہ چین کے مقابلے میں اپنے آپ کو مضبوط بنانا چاہتا ہے تاکہ ٹیکنالوجی کے عالمی منظرنامے پر اپنی پوزیشن برقرار رکھ سکے۔
آگے چل کر یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ یہ دونوں امریکی ادارے کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں اور کیا وہ چین کی ترقی کو روک پاتے ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ، اوپن سورس ماڈلز کی ترقی میں شفافیت اور عالمی تعاون بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جو ٹیکنالوجی کی عالمی سطح پر ترقی کو فروغ دے گا۔

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے