تحقیقی مقالے میں بتایا گیا ہے کہ خود مختار مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس کی مدد سے آن لائن اثر و رسوخ کی مہمات کو چھپانا مزید مشکل اور ان کی تاثیر بڑھانا ممکن ہو جائے گا۔ یہ ایجنٹس خود بخود کام کرتے ہوئے بڑی تعداد میں مواد تخلیق اور پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو غلط معلومات کی اشاعت اور سیاسی یا معاشرتی چالاکیوں میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے معلومات کی دنیا میں انقلابی تبدیلیاں کی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کے منفی پہلوؤں کا بھی خدشہ بڑھ گیا ہے۔ خود مختار AI ایجنٹس، جنہیں ‘سوارمز’ بھی کہا جاتا ہے، انٹرنیٹ پر خودکار طریقے سے جعلی خبریں، غلط بیانی، اور گمراہ کن مواد پھیلانے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے آن لائن مواد کی سچائی کی تصدیق مشکل ہو جاتی ہے اور صارفین کے لیے درست معلومات تک رسائی محدود ہو سکتی ہے۔
آن لائن سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور ڈیجیٹل کمیونٹیز میں اس قسم کے خودکار AI استعمال کی وجہ سے جعلی اکاؤنٹس اور بوٹس کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جو مخصوص ایجنڈوں کو فروغ دینے کے لیے کام کرتے ہیں۔ اس نئی تحقیق میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اگر اس رجحان پر کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ آن لائن ماحول کو مزید غیر شفاف اور نقصان دہ بنا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے تکنیکی، قانونی اور اخلاقی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ AI کے اس جدید استعمال کو روکا جا سکے جو معلوماتی دھوکہ دہی کو بڑھاوا دے۔ مستقبل میں ایسے اقدامات کے بغیر، آن لائن پلیٹ فارمز پر غلط معلومات کی بھرمار اور صارفین کی فریب دہی کا خطرہ بڑھتا جائے گا۔
یہ صورتحال حکومتوں، سائبر سیکیورٹی اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، جو اس بات کو یقینی بنائیں کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال ذمہ داری سے ہو اور عوامی معلومات کے معیار کو نقصان نہ پہنچے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt