بھارت میں منعقد ہونے والے ایک اہم مصنوعی ذہانت (اے آئی) سمٹ کے دوران اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹ مین اور اینتھروپک کے سی ای او داریو ایموڈی نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے یا کسی قسم کا قریبی رابطہ کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ دونوں معروف کاروباری رہنما ایک دوسرے کے قریب بیٹھے ہوئے تھے لیکن انہوں نے ہاتھ اٹھا کر ملاقات کی پیش کش کو رد کر دیا اور ایک دوسرے سے آنکھیں بھی نہیں ملائیں۔ اس واقعے کی اطلاع بلوم برگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دی۔
اوپن اے آئی اور اینتھروپک دونوں ہی مصنوعی ذہانت کے شعبے میں نمایاں ادارے ہیں جنہوں نے حالیہ برسوں میں اے آئی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سیم آلٹ مین کی قیادت میں اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی جیسی جدید زبان ماڈلز کو فروغ دیا، جبکہ اینتھروپک نے انسانی فہم اور اخلاقیات پر مبنی اے آئی تحقیق میں پیش رفت کی ہے۔ ان دونوں اداروں کی سرگرمیاں عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی دنیا میں بڑے اثرات رکھتی ہیں۔
اس قسم کے سرکاری اور کاروباری اجلاسوں میں رہنماؤں کا باہمی تعاون اور تعلقات کی مضبوطی کو اہم سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر جب وہ ایک ہی صنعت کے اہم کھلاڑی ہوں۔ تاہم، اس بار واضح طور پر دونوں رہنماؤں کے درمیان سرد مہری دیکھی گئی جو کہ مستقبل میں ان اداروں کے آپسی تعلقات یا مشترکہ منصوبوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
مصنوعی ذہانت کی دنیا میں مسابقت اور نظریاتی اختلافات عام ہیں، جو نئی تکنیکی راہوں اور کاروباری حکمت عملیوں کی دلیل ہوتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد یہ بات زیر بحث آ سکتی ہے کہ آیا یہ سرد مہری محض ذاتی نوعیت کی ہے یا اس کے پیچھے کسی بڑے صنعتی یا حکومتی اختلافات کی بنیاد ہے۔
اے آئی ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے عالمی استعمال اور اس کے معاشرتی و اقتصادی اثرات کے پیش نظر، اس قسم کے رہنماؤں کے باہمی تعلقات اور تعاون کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ مستقبل میں اس سمٹ میں شریک دیگر اداروں اور رہنماؤں کی پالیسیاں اور بیانات بھی اس صورتحال کی وضاحت میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance