یونیسکو کی وارننگ: مصنوعی ذہانت کے باعث 2028 تک تخلیق کاروں کی آمدنی میں تقریباً 25 فیصد کمی متوقع

زبان کا انتخاب

یونیسکو کی ایک تازہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کی وجہ سے موسیقی اور اسکرین کے تخلیق کاروں کی آمدنی میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وکلاء کا ماننا ہے کہ “فیئر یوز” کے اصول جو تخلیقی کاموں کے محدود استعمال کو قانونی تحفظ دیتے ہیں، مصنوعی ذہانت کی وسیع پیمانے پر استعمال کی وجہ سے کمزور پڑ رہے ہیں۔
موسیقی اور فلمی صنعتوں میں تخلیق کاروں کی کمائی کا دارومدار ان کے حقوق اور مواد کے استعمال پر ہوتا ہے، لیکن AI کے ذریعے مواد کی خودکار تخلیق اور نقل سے ان حقوق پر اثر پڑ رہا ہے۔ AI ٹیکنالوجی اب اتنی ترقی کر چکی ہے کہ وہ بغیر کسی انسانی مداخلت کے نئے گانے، اسکرپٹس اور ویژول مواد تخلیق کر سکتی ہے، جس سے روایتی تخلیق کاروں کی محنت کی قدر کم ہو رہی ہے۔
اس صورتحال میں تخلیق کاروں کو مالی نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ AI سے تیار کردہ مواد کے استعمال سے اصل تخلیق کاروں کی محنت کی قدر کم ہو جاتی ہے اور ان کے کاپی رائٹ کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ یہ چیلنجز تخلیقی صنعتوں کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال سکتے ہیں، جہاں قانونی فریم ورک کو AI کی تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کے مطابق ڈھالنا ضروری ہو گا۔
یونیسکو کی گزارش ہے کہ عالمی سطح پر ایسے قوانین اور پالیسیاں بنائی جائیں جو تخلیق کاروں کے حقوق کا تحفظ کریں اور AI ٹیکنالوجی کے استعمال کو منظم کریں تاکہ تخلیقی صنعتوں کو درپیش مالی مشکلات کو کم کیا جا سکے۔ آئندہ برسوں میں اس مسئلے پر عالمی بحث اور قانونی اصلاحات متوقع ہیں، جو کہ تخلیقی شعبے کے استحکام کے لیے نہایت اہم ہوں گی۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش