افریقہ کی شمسی توانائی کی صنعت 2025 تک ریکارڈ ترقی کی جانب گامزن

زبان کا انتخاب

افریقہ کی شمسی توانائی کی صنعت 2025 تک غیر معمولی ترقی کی توقع ہے، جس کی بنیادی وجہ بڑے پیمانے پر یوٹیلٹی اسکیل منصوبوں میں اضافہ ہے۔ گلوبل سولر کونسل کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، افریقہ کی سالانہ نئی شمسی پیداوار آئندہ چند برسوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں چھ گنا سے زائد ہو جائے گی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 میں افریقہ تقریباً 4.5 گیگاواٹ کی نئی شمسی توانائی پیدا کرنے کا ہدف طے کر رہا ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 54 فیصد زیادہ ہے اور 2023 میں قائم ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا۔ جنوبی افریقہ اس حوالے سے سب سے آگے ہے جس کی تنصیب شدہ صلاحیت 1.6 گیگاواٹ ہے، اس کے بعد نائیجیریا 803 میگاواٹ اور مصر 500 میگاواٹ کے ساتھ شامل ہیں۔
گلوبل سولر کونسل کا اندازہ ہے کہ جیسے جیسے افریقہ کے مختلف ممالک میں یوٹیلٹی اسکیل اور تقسیم شدہ شمسی توانائی کے بازار بڑھیں گے، ویسے ویسے 2029 تک افریقہ کی سالانہ شمسی صلاحیت 33 گیگاواٹ سے تجاوز کر سکتی ہے۔ شمسی توانائی کے اس بڑھتے ہوئے رجحان سے نہ صرف توانائی کی فراہمی میں بہتری آئے گی بلکہ یہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
افریقہ کی کئی حکومتیں اور نجی شعبے کے ادارے توانائی کے اس متبادل ماخذ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ کاری میں اضافہ کر رہے ہیں تاکہ توانائی کی کمی کو پورا کیا جا سکے اور توانائی کے شعبے میں خود کفالت حاصل کی جا سکے۔ تاہم، اس شعبے کو درپیش چیلنجز میں مالی وسائل کی فراہمی، ٹیکنالوجی کی دستیابی، اور انفراسٹرکچر کی تعمیر شامل ہیں جن پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔
مجموعی طور پر، افریقہ کی شمسی توانائی کی صنعت میں یہ ترقی خطے کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور ماحولیاتی تحفظ کے عالمی اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے