یورپی سینٹرل بینک (ای سی بی) کے گورننگ کونسل کے رکن اولی رین نے ایران کی موجودہ صورتحال کا پر سکون اور معتدل انداز میں جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیو پولیٹیکل کشیدگی کے ممکنہ اثرات کو سمجھتے ہوئے ذہنی سکون اور تحمل کا مظاہرہ کرنا انتہائی اہم ہے تاکہ معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات سے نمٹا جا سکے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں استحکام کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے اور عالمی منڈیوں پر اس کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔
اولی رین کی یہ باتیں یورپی سینٹرل بینک کی محتاط حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہیں، جو عالمی سطح پر پیچیدہ بین الاقوامی حالات کے باوجود معیشت کی مضبوطی کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کی جغرافیائی سیاسی صورتحال میں کشیدگی کی وجہ سے عالمی توانائی کی سپلائی اور تجارت میں رکاوٹوں کا خدشہ بڑھ گیا ہے، جس سے عالمی مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایسے حالات میں مرکزی بینکوں کا ردعمل نہایت اہم ہوتا ہے تاکہ مالی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
ای سی بی جیسے ادارے عالمی معیشت پر ایران جیسے خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے اثرات کا بغور جائزہ لیتے ہیں تاکہ مناسب مالیاتی پالیسیز ترتیب دی جا سکیں۔ اس کے علاوہ، سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کو بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی مارکیٹ میں غیر متوقع تبدیلیوں کا سامنا کیا جا سکے۔ مستقبل میں، اگر ایران کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی تو اس کے اثرات عالمی اقتصادیات پر مزید گہرے ہو سکتے ہیں، جس کے پیش نظر عالمی مالیاتی ادارے اور حکومتیں ہوشیار رہنے کی ضرورت محسوس کرتی ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance