ایران کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج، نو بیٹیکس، حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود صارفین کی جانب سے بڑے پیمانے پر فنڈز کی نکاسی کا سامنا نہیں کر سکی۔ تجزیہ کار اداروں TRM Labs اور Chainalysis کی آزاد تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ حملوں کے فوری بعد ایرانی ایکسچینجز میں عارضی طور پر لین دین میں اضافہ اور فنڈز کی کچھ مقدار کی منتقلی دیکھی گئی، مگر نو بیٹیکس کی کارکردگی مستحکم رہی۔
فروری کے آخر میں ہونے والے حملوں کے بعد نو بیٹیکس کی آن چین سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا جس میں خاص طور پر ہاٹ والیٹس سے کول والیٹس کی جانب کروڑوں ڈالرز کی منتقلی دیکھی گئی۔ تاہم، TRM Labs کے مطابق یہ منتقلیاں صارفین کی جانب سے گھبراہٹ میں کی جانے والی نکاسیات نہیں بلکہ ایکسچینج کی اندرونی مالی انتظامیہ کا حصہ تھیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نو بیٹیکس نے اپنے صارفین کے اعتماد کو برقرار رکھتے ہوئے مارکیٹ میں استحکام قائم رکھا۔
نو بیٹیکس ایران کی مقامی مارکیٹ میں کرپٹو کرنسی کی تجارت کا اہم مرکز ہے جو صارفین کو بٹ کوائن، ایتھیریم اور دیگر معروف ڈیجیٹل اثاثوں کی خرید و فروخت کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ ایران میں عالمی پابندیوں اور سیاسی کشیدگی کے باوجود کرپٹو کرنسی کا استعمال بڑھ رہا ہے، خاص طور پر مالیاتی پابندیوں سے بچنے کے لیے۔
اگرچہ حملوں کے بعد کچھ ایرانی کرپٹو مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی، لیکن نو بیٹیکس کی مستحکم صورتحال نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ ملکی کرپٹو مارکیٹ میں ابھی بھی مضبوط بنیادیں موجود ہیں۔ مستقبل میں، سیاسی اور جغرافیائی کشیدگی کے باعث کرپٹو مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا امکان رہتا ہے، لیکن نو بیٹیکس جیسی بڑی ایکسچینجز کے قیام سے سرمایہ کاروں کو کچھ حد تک تحفظ ملتا ہے۔