جاپان کے وزیر خزانہ نے 2013 کے معاہدے میں ترمیم سے انکار کر دیا

زبان کا انتخاب

جاپان کے وزیر خزانہ گوٹو کاتایاما نے واضح کیا ہے کہ اس وقت حکومت اور بینک آف جاپان کے درمیان 2013 میں طے پانے والے معاہدے میں کسی قسم کی ترمیم کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں۔ یہ معاہدہ جاپان کی اقتصادی حکمت عملی کا بنیادی ستون رہا ہے جس کا مقصد معیشت میں مستحکم مہنگائی کی شرح اور مسلسل ترقی کو یقینی بنانا ہے۔
بینک آف جاپان اور حکومت کے درمیان یہ معاہدہ ملک کی مالیاتی پالیسیوں کی رہنمائی کرتا ہے اور مرکزی بینک کو اقتصادی استحکام کے لیے مخصوص اقدامات اٹھانے کا اختیار دیتا ہے۔ موجودہ وقت میں جاپان کو مختلف اقتصادی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں عالمی معیشت کی غیر یقینی صورتحال اور داخلی مالی دباؤ شامل ہیں، لیکن وزیر خزانہ کے بقول ان مشکلات کے باوجود حکومتی پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کا کوئی ارادہ نہیں۔
کاتایاما کی اس واضح پوزیشن سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاپان کی حکومت معاشی استحکام کو ترجیح دیتی ہے اور مالیاتی پالیسی میں غیر ضروری تبدیلیوں سے گریز کر رہی ہے تاکہ معیشت میں ممکنہ اتار چڑھاؤ سے بچا جا سکے۔ اس فیصلے کا مطلب یہ بھی ہے کہ مرکزی بینک اپنی موجودہ حکمت عملی کے تحت مہنگائی کو قابو میں رکھنے اور اقتصادی نمو کو فروغ دینے کی کوشش جاری رکھے گا۔
اقتصادی ماہرین کے نزدیک یہ محتاط رویہ اس وقت کے عالمی مالیاتی حالات کی عکاسی کرتا ہے، جہاں بہت سے ممالک اپنی مالیاتی پالیسیوں میں تبدیلیاں کر رہے ہیں۔ جاپان کی اس پالیسی سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ ملک کی معیشت میں یکسانیت برقرار رہے گی، تاہم مستقبل میں عالمی یا داخلی حالات میں اگر کوئی بڑا بدلاؤ آیا تو حکومت کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنی پڑ سکتی ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے