مصنوعی ذہانت کے ماڈلز نے فیات کرنسی اور اسٹیبل کوائنز کی بجائے بٹ کوائن کو ترجیح دی، تحقیق میں انکشاف

زبان کا انتخاب

بٹ کوائن پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مختلف مصنوعی ذہانت کے نظام جیسے کلاؤڈ، جی پی ٹی، گروک، اور جیمینی نے روایتی فیات کرنسیوں اور دیگر ڈیجیٹل اثاثوں کے مقابلے میں بٹ کوائن کو زیادہ ترجیح دی ہے۔ یہ تحقیق اس وقت سامنے آئی ہے جب کرپٹو کرنسیز دنیا بھر میں مالیاتی نظام میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
بٹ کوائن، جو کہ سب سے پہلی اور معروف کرپٹو کرنسی ہے، نے پچھلے چند سالوں میں دنیا بھر میں سرمایہ کاری اور لین دین کے لئے اپنی اہمیت بڑھائی ہے۔ اس کی مرکزی خصوصیت اس کا غیر مرکزی نیٹ ورک اور محدود فراہمی ہے جو اسے مہنگائی سے محفوظ بناتی ہے۔ دوسری جانب، فیات کرنسیاں جیسے امریکی ڈالر اور یورو مرکزی بینکوں کے کنٹرول میں ہوتی ہیں، جبکہ اسٹیبل کوائنز کو عام طور پر کسی فیٹ کرنسی یا اثاثہ سے جوڑا جاتا ہے تاکہ قیمت مستحکم رکھی جا سکے۔
مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی اس ترجیحی کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ وہ بٹ کوائن کی سیکیورٹی، شفافیت اور عالمی قبولیت کو مالیاتی نظام میں زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ یہ رجحان مستقبل میں کرپٹو کرنسیز کے استعمال اور ان کے مالیاتی نظام میں انضمام کے امکانات کو بڑھا سکتا ہے۔ تاہم، کرپٹو مارکیٹ کی اتار چڑھاؤ اور ریگولیٹری خدشات ابھی بھی سرمایہ کاروں اور صارفین کے لئے ایک چیلنج ہیں۔
کرپٹو کرنسیز کی دنیا میں بٹ کوائن اپنی خاص جگہ رکھتا ہے اور مصنوعی ذہانت کی جانب سے اس کی ترجیح اس کی عالمی مالیاتی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔ مستقبل میں دیکھا جائے گا کہ دیگر ڈیجیٹل کرنسیاں اور مالیاتی ماڈلز اس رجحان کے تحت کس طرح ترقی کرتے ہیں اور عالمی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے