بٹ کوائن مستحکم، ایتھر اور سولانا میں کمی، مشرق وسطیٰ کے مسائل کی وجہ سے ایشیائی اسٹاک مارکیٹس کئی سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں

زبان کا انتخاب

منگل کو بٹ کوائن نے عارضی طور پر اپنی قیمت کی بلند ترین حد کو دوبارہ حاصل کیا تاہم فروخت کنندگان نے اسے فوراً واپس لے کر تقریباً 67,000 ڈالر کی سطح پر بند کر دیا۔ اس دوران جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ نے 2008 کے بعد کا بدترین دو روزہ زوال ریکارڈ کیا۔ دیگر معروف کرپٹو کرنسیاں جیسے ایتھر اور سولانا بھی قیمتوں میں کمی کا شکار ہوئیں۔
بٹ کوائن، جو دنیا کی سب سے بڑی اور معروف کرپٹو کرنسی ہے، نے حالیہ دنوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا ہے۔ اس کی قیمت عالمی مالیاتی اور جغرافیائی سیاسی حالات سے گہرے تعلقات رکھتی ہے۔ خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے عالمی سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے، جس کا اثر ایشیائی اسٹاک مارکیٹس پر واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ سولانا اور ایتھر جیسی دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں کی قیمتوں میں کمی بھی اس غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔
ایشیا کی معیشت میں یہ اتار چڑھاؤ اس وقت سامنے آیا ہے جب عالمی مارکیٹس پہلے ہی متعدد چیلنجز جیسے کہ مہنگائی، سود کی شرح میں اضافے اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے دوچار ہیں۔ سرمایہ کار خطرات سے بچنے کے لیے اپنی سرمایہ کاری کو محفوظ اثاثوں کی طرف منتقل کر رہے ہیں، جس سے اسٹاک مارکیٹس میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
اگرچہ بٹ کوائن نے اپنی قیمت کو مستحکم رکھنے کی کوشش کی ہے، مگر عالمی سیاسی کشیدگی اور اقتصادی عدم استحکام کے پیش نظر کرپٹو مارکیٹس میں مزید اتار چڑھاؤ کا خدشہ موجود ہے۔ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ محتاط رہیں اور مارکیٹ کی صورتحال پر گہری نظر رکھیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے