جیمی ڈیمون نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسٹےبل کوائن کے اجرا کرنے والے ادارے جو اپنے صارفین کو سود فراہم کرتے ہیں، انہیں بینکوں کے معیار کے مطابق سخت نگرانی اور قواعد و ضوابط کے تابع ہونا چاہیے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن میں کلیرٹی ایکٹ (CLARITY Act) کے بارے میں بات چیت جاری ہے، جو کرپٹو کرنسیز اور خاص طور پر اسٹےبل کوائنز کی ریگولیشن کو مضبوط بنانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ اسٹےبل کوائنز وہ ڈیجیٹل کرنسیز ہوتی ہیں جن کی قیمت عموماً کسی مستحکم اثاثے جیسے امریکی ڈالر سے منسلک ہوتی ہے تاکہ انہیں قیمت میں اتار چڑھاؤ سے بچایا جا سکے۔
موجودہ دور میں اسٹےبل کوائنز کرپٹو مارکیٹ کا ایک اہم جزو بن چکے ہیں اور انہیں مالیاتی نظام میں ایک متبادل یا معاون ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، کچھ اسٹےبل کوائنز ایسے بھی ہیں جو اپنے صارفین کو سود کی پیشکش کرتے ہیں، جس سے ان کی کارکردگی روایتی بینکوں کی طرح ہو جاتی ہے۔ اس صورتحال میں جیمی ڈیمون نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ ادارے سود کی ادائیگی کر رہے ہیں تو انہیں بینکنگ سسٹم کے قواعد کے تحت لانا ضروری ہے تاکہ مالیاتی استحکام اور صارفین کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
واشنگٹن میں جاری بحث اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکی قانون ساز کرپٹو کرنسی کے شعبے میں شفاف اور مضبوط ریگولیشن کے خواہاں ہیں تاکہ مالیاتی نظام میں ممکنہ خطرات کو کم کیا جا سکے۔ کلیرٹی ایکٹ کا مقصد کرپٹو کرنسیز کی قانونی حیثیت کو واضح کرنا اور ایسے اداروں کی نگرانی کو بہتر بنانا ہے جو مالیاتی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔
اگر اسٹےبل کوائنز کو بینکوں کی طرح ریگولیٹ کیا گیا تو اس سے مارکیٹ میں اعتماد بڑھے گا اور صارفین کو زیادہ تحفظ حاصل ہوگا۔ تاہم، اس کے لیے کرپٹو انڈسٹری کو بھی نئے قواعد و ضوابط کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا، جو اس کے لیے چیلنجز کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk