ایران میں امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے فوری بعد کرپٹو کرنسی کے ایرانی ایکسچینجز سے تقریباََ 10.3 ملین ڈالر کی رقوم نکال لی گئی ہیں۔ اس دوران، ایکسچینج پلیٹ فارمز پر ٹریڈنگ والیم ایک گھنٹے میں دو ملین ڈالر کے قریب پہنچ گیا، جو کہ ایک غیر معمولی ہجوم کی علامت ہے۔ چینالیسس کی رپورٹ کے مطابق، یہ رقم ایرانی مالیاتی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کے باعث صارفین کی جانب سے اپنے اثاثے منتقل کرنے کی کوشش کی عکاسی کرتی ہے۔
کرپٹو کرنسیاں اس زمانے میں خاصی اہمیت اختیار کر چکی ہیں، جہاں عالمی سطح پر سیاسی یا معاشی بحران کی صورت میں سرمایہ کار اپنی دولت کو محفوظ بنانے کے لیے روایتی مالیاتی نظام سے ہٹ کر ڈیجیٹل اثاثوں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ایران میں بھی کرپٹو کرنسی کا استعمال خاصا بڑھا ہے، کیونکہ پابندیوں اور محدود بینکنگ سہولیات کی وجہ سے لوگ اپنی مالی سرگرمیاں آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے انجام دیتے ہیں۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں نے ملک کی معاشی صورتحال کو مزید غیر مستحکم کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں میں تحفظات بڑھ گئے ہیں۔ اس صورتحال میں کرپٹو مارکیٹ میں رقوم کی تیزی سے نکلنے کا رجحان ایک واضح اشارہ ہے کہ صارفین خطرے کے پیش نظر اپنے اثاثے جلدی سے منتقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اگرچہ کرپٹو کرنسی کی خصوصیات میں تیز تر لین دین اور گلوبل رسائی شامل ہے، لیکن ایسے حالات میں مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ بھی نمایاں ہوتا ہے، جو سرمایہ کاروں کے لیے اضافی خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران میں سیاسی عدم استحکام کے دوران کرپٹو مارکیٹ کی حساسیت میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا اثر طویل مدتی مالیاتی منصوبوں پر پڑ سکتا ہے۔
اس صورتحال میں، ایرانی کرپٹو مارکیٹ کی مستقبل کی سمت کا انحصار ملکی اور بین الاقوامی سیاسی حالات پر ہوگا، جبکہ سرمایہ کاروں کو بھی اپنے فیصلے احتیاط سے کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt