سیاسی اور حکمت عملی کے ماہر سمیر رجب نے خلیجی ممالک کی سکیورٹی پر ہتھیاروں کی محدود ذرائع سے فراہمی کے منفی اثرات پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق ایران میں جاری تنازعہ نے ان ممالک کی کمزوریاں واضح کر دی ہیں جو ہتھیاروں کی فراہمی کے حوالے سے چند مخصوص ذرائع پر انحصار کرتے ہیں۔ اس صورتحال نے خطے کی اسٹریٹجک استحکام اور دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں خدشات کو بڑھا دیا ہے اور فوجی ساز و سامان کی خریداری میں متنوع طریقہ کار اپنانے کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔
خلیج کے ممالک، جو کہ دنیا کے اہم توانائی کے مراکز میں شامل ہیں، اپنی حفاظت کے لیے بیرونی ہتھیاروں اور دفاعی ٹیکنالوجی پر انحصار کرتے ہیں۔ محدود سپلائرز کی دستیابی کی وجہ سے یہ ممالک اگر کسی بحران یا تنازعے میں پھنس جائیں تو انہیں فوری طور پر مطلوبہ ہتھیاروں کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ہتھیاروں کی خریداری کے ذرائع کو متنوع بنانے سے نہ صرف ان کی دفاعی استعداد میں اضافہ ہوگا بلکہ علاقائی کشیدگیوں کے دوران ان کی پائیداری بھی مضبوط ہو گی۔
یہ تشویش ایران میں جاری کشیدگی کے تناظر میں مزید اہم ہو جاتی ہے کیونکہ اس تنازعے نے خطے میں فوجی اور سیاسی حالات کو نہایت نازک بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ، عالمی سیاسی منظرنامے میں ہتھیاروں کی فراہمی کی پابندیاں اور تجارتی پابندیاں بھی خلیجی ممالک کے دفاعی منصوبوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔ لہٰذا، ان ممالک کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ہتھیاروں کے متبادل ذرائع تلاش کریں اور اپنے دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف ممالک اور کمپنیوں کے ساتھ تعلقات استوار کریں۔
خلیجی خطہ اپنی توانائی کی دولت کی وجہ سے عالمی سیاست میں اہم مقام رکھتا ہے اور اس کی سلامتی عالمی معیشت کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ اس لیے ہتھیاروں کی فراہمی کے وسائل کو متنوع بنانا اور دفاعی تیاریوں کو مضبوط کرنا اس خطے کی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔