اوپن اے آئی کا پینٹاگون معاہدے میں حفاظتی سرخ لکیروں کا دعویٰ، صارفین مطمئن نہیں

زبان کا انتخاب

اوپن اے آئی نے امریکی محکمہ دفاع کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت کمپنی نے حفاظتی “سرخ لکیروں” کے نفاذ کا دعویٰ کیا ہے تاکہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے استعمال میں احتیاط برتی جائے۔ تاہم، صارفین اور ماہرین کا خیال ہے کہ یہ دعوے مکمل یقین دہانی نہیں کراتے اور اس معاہدے کے الفاظ میں پوشیدہ خدشے موجود ہیں۔ اس خبر کے بعد چیٹ جی پی ٹی کے صارفین میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے اور اینتھروپک کے کلاؤڈ ایپ اسٹور پر سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ ہونے والا ایپ بن گیا ہے۔
اوپن اے آئی، جو کہ مصنوعی ذہانت کی دنیا کی معروف کمپنی ہے، نے اپنی چیٹ جی پی ٹی سروس کے ذریعے صارفین کی بڑی تعداد حاصل کی ہے۔ اس معاہدے کا مقصد دفاعی اداروں کے لیے جدید AI ٹیکنالوجی فراہم کرنا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کے استعمال پر مخصوص اخلاقی اور حفاظتی ضوابط بھی قائم کیے گئے ہیں۔ تاہم، صارفین کی جانب سے اس بات پر تحفظات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ پینٹاگون کے ساتھ معاہدہ اوپن اے آئی کی شفافیت اور صارفین کی پرائیویسی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت میں تیزی سے بڑھتی ہوئی دلچسپی اور استعمال کے پیش نظر، کمپنیوں اور حکومتی اداروں کے مابین معاہدے عام ہو رہے ہیں، مگر ان معاہدوں کی شرائط عام طور پر پیچیدہ اور غیر واضح ہوتی ہیں جس کی وجہ سے صارفین میں عدم اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ اس صورتحال میں اینتھروپک کا کلاؤڈ صارفین کی ترجیح بن گیا ہے، جو اپنی اخلاقی حدود اور صارف دوست پالیسیوں کے لیے جانا جاتا ہے۔
آئندہ کے لیے خدشہ یہ ہے کہ اگر حفاظتی سرخ لائنوں کو مؤثر طریقے سے نافذ نہ کیا گیا تو مصنوعی ذہانت کا غلط استعمال ہو سکتا ہے، جس سے صارفین کی معلومات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ کمپنیوں کو اپنے معاہدوں میں مکمل شفافیت اور صارفین کی حفاظت کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے