سائنسدانوں نے دودھ کے پروٹین، نشاستے اور آتش فشانی مٹی کو ملا کر ایک ایسا پیکیجنگ فلم تیار کیا ہے جو ماحول دوست اور بایوڈیگریڈیبل ہے۔ یہ فلم قدرتی طور پر 13 ہفتوں کے اندر تحلیل ہو جاتی ہے، جس سے پلاسٹک کے استعمال سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی مسائل میں کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے۔
روایتی پلاسٹک مصنوعات ماحول کو نقصان پہنچاتی ہیں کیونکہ یہ سینکڑوں سالوں تک زمین اور پانی میں موجود رہتی ہیں، جس سے زمین کی آلودگی اور جنگلی حیات کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ اس نئے دریافت شدہ مواد کی مدد سے ایسی پیکیجنگ بنائی جا سکتی ہے جو کم وقت میں قدرتی ماحول میں تحلیل ہو کر زمین کی حفاظت کرے گی۔
دودھ کے پروٹین کو بطور بنیادی جزو استعمال کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ ایک قدرتی اور تجدید پذیر ذریعہ ہے، جو دیگر مصنوعی مواد کے مقابلے میں ماحول دوست اور محفوظ تصور کیا جاتا ہے۔ آتش فشانی مٹی کا استعمال فلم کو مضبوط اور پائیدار بنانے میں معاون ثابت ہوتا ہے، جبکہ نشاستہ اس کے باندھنے والے خواص کو بہتر بناتا ہے۔
یہ تکنیکی پیش رفت پیکیجنگ انڈسٹری میں ایک اہم تبدیلی لا سکتی ہے، کیونکہ دنیا بھر میں پلاسٹک کے زہریلے اثرات کو کم کرنے کی کوششیں زور پکڑ رہی ہیں۔ اس کی تیاری اور استعمال سے نہ صرف پلاسٹک کی ضرورت کم ہو گی بلکہ ری سائیکلنگ کے عمل میں بھی آسانی ہوگی۔
مستقبل میں اس فلم کی تجارتی سطح پر تیاری اور دیگر صنعتی استعمالات میں اضافہ ممکن ہے، لیکن اس کے لیے مزید تحقیق اور بڑے پیمانے پر تجربات ضروری ہیں تاکہ اس کی کارکردگی اور اقتصادی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مواد کامیابی سے مارکیٹ میں آ جائے تو ماحول دوست مصنوعات کی مانگ میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt