عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی کا امکان ایران میں جاری تنازع کے پس منظر میں بڑھ گیا ہے۔ کیپیٹل اکنامکس کے چیف ایمرجنگ مارکیٹس اکنامسٹ ولیم جیکسن کے مطابق، برینٹ کرُڈ آئل کی قیمتیں تقریباً 80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں، چاہے ایران کا تنازع محدود بھی رہے۔ جون میں ایران میں بارہ روزہ کشیدگی کے دوران بھی یہی قیمت دیکھی گئی تھی۔ جیکسن نے خبردار کیا ہے کہ اگر تنازع جاری رہا اور تیل کی فراہمی متاثر ہوئی تو قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں، جس کے عالمی مہنگائی پر 0.6 سے 0.7 فیصد پوائنٹس کا اضافی اثر پڑ سکتا ہے۔
اگر صورتحال مزید بگڑ گئی اور ہرمز کی تنگی مکمل طور پر دو سے چار ہفتے کے لیے بند ہو گئی تو گولڈمین سیکس اور جے پی مورگن نے قیمتوں کے 150 سے 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کی پیش گوئی کی ہے۔ ایسی صورت میں عالمی توانائی کا بحران شدت اختیار کر سکتا ہے اور بڑے معیشتوں کو سست رفتاری یا کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاریخی طور پر، 1970 کی دہائی کے آخر میں دوسرا تیل کا بحران تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں 200 فیصد سے زائد اضافے کا باعث بنا تھا، جس نے امریکہ میں کساد بازاری کو جنم دیا تھا۔
تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ عالمی معیشت کے لیے انتہائی حساس ہوتا ہے کیونکہ توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت پیداوار اور صارفین کی خریداری کی طاقت کو متاثر کرتی ہے۔ ایران میں جاری کشیدگی اور خلیج فارس میں تیل کی ترسیل کے اہم راستے کی حفاظت عالمی مالیاتی مارکیٹوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ سرمایہ کار اور حکومتی ادارے اس سلسلے میں بڑھتے ہوئے خطرات کو دیکھتے ہوئے محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے کے عالمی اثرات میں مہنگائی میں اضافہ، تجارتی خسارے کا بڑھنا اور بعض ممالک میں اقتصادی سست روی شامل ہو سکتی ہے۔ عالمی ادارے اور معیشت دان صورتحال کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے متوازن حکمت عملی اپنانے پر زور دے رہے ہیں تاکہ ممکنہ بحران سے بچا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance