سی پی ایم گروپ کی ایک رپورٹ میں میزائلز میں چاندی کے استعمال کے حوالے سے پائی جانے والی غلط فہمیوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ مختلف ذرائع میں یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ دنیا بھر میں میزائلز میں چاندی کی بڑی مقدار غیر بازیاب انداز میں استعمال ہو جاتی ہے، خاص طور پر ’’ٹومہاک‘‘ میزائل میں تقریباً 482 یا 500 اونس چاندی پائی جاتی ہے۔ تاہم، باخبر ماہرین کے مطابق ’’ٹومہاک‘‘ میزائل میں چاندی کی اصل مقدار تقریباً 10 سے 15 اونس کے درمیان ہے جو بنیادی طور پر سولڈر اور اگنیشن بیٹریز میں استعمال ہوتی ہے، جو دعووں سے کہیں کم ہے۔
اسی طرح یوکرین اور مشرق وسطیٰ جیسے خطوں میں استعمال ہونے والے چھوٹے میزائلز میں چاندی کی مقدار ایک اونس سے بھی کم ہوتی ہے اور یہ بھی سولڈر اور اگنیشن بیٹریز تک محدود ہے۔ چاندی کا میزائلوں میں استعمال بنیادی طور پر ان کی الیکٹریکل صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے کیا جاتا ہے کیونکہ چاندی بجلی کی بہت اچھی کنڈکٹر ہے۔
چاندی کی اس قسم کی محدود مقدار میں استعمال سے یہ نظریہ کہ میزائلز میں چاندی کا بے تحاشا ضیاع ہو رہا ہے، غلط ثابت ہوتا ہے۔ اس حوالے سے درست معلومات کا ہونا سرمایہ کاروں اور صنعتی ماہرین کے لیے اہم ہے، کیونکہ چاندی کی عالمی مارکیٹ میں طلب و رسد کے حوالے سے غلط فہمیوں سے قیمتوں میں غیر ضروری اتار چڑھاؤ پیدا ہو سکتا ہے۔
چاندی کا دفاعی صنعت میں یہ محدود استعمال اس کے قیمتی اور محدود وسائل کے تحفظ کے تناظر میں بھی اہم ہے۔ مستقبل میں ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ممکن ہے کہ مزید ماحول دوست اور کم قیمتی متبادل مواد کا استعمال بڑھ جائے، جس سے چاندی کی طلب میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ تاہم، اس وقت دفاعی صنعت میں چاندی کی اہمیت برقرار ہے، خاص طور پر بجلی کی ترسیل اور سولڈرنگ میں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance