ایران کی جانب سے تیل کی فراہمی روکنے اور مارکیٹس گرنے کے خدشات پر تشویش کم ہونے کا امکان

زبان کا انتخاب

کریپٹو کرنسی کمیونٹی میں ایران کے ذریعے تیل کی سپلائی مکمل طور پر بند کرنے اور اس کے نتیجے میں مارکیٹ میں شدید گراوٹ آنے کے خدشات پائے جاتے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ہرمز کے راستے کو مکمل بند کرنا عملی طور پر ممکن یا معقول نہیں۔ ہرمز کی تنگ آبی دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کا ایک اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے روزانہ بڑی مقدار میں خام تیل گزرتا ہے۔ اس گزرگاہ کی بندش عالمی تیل کی سپلائی میں خلل ڈال سکتی ہے اور توانائی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کر سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی معاشی نظام اور مالیاتی مارکیٹس پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایسی صورتحال میں کریپٹو کرنسی مارکیٹس پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں کیونکہ توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے سرمایہ کاروں میں غیر یقینی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی سپلائی مکمل طور پر بند ہونا نہ صرف سیاسی بلکہ عالمی تجارتی نظام کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوگا، اس لیے اس کا امکان کم ہی ہے۔ مزید یہ کہ، عالمی طاقتیں اس طرح کے کسی اقدام کو روکنے کے لیے سفارتی اور عسکری ذرائع استعمال کر سکتی ہیں تاکہ توانائی کی بین الاقوامی سپلائی برقرار رکھی جا سکے۔
کریپٹو کرنسی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ بنیادی طور پر عالمی معاشی حالات، سرمایہ کاری کے رجحانات اور تکنیکی عوامل پر منحصر ہوتا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اچانک تبدیلیاں مارکیٹ کی روانی کو متاثر کر سکتی ہیں لیکن مکمل مارکیٹ کریش کا خدشہ مبالغہ آرائی پر مبنی ہو سکتا ہے۔ اس لیے سرمایہ کاروں اور تجزیہ کاروں کو چاہیے کہ وہ صورتحال کا بغور جائزہ لیں اور جذباتی ردعمل سے گریز کریں۔
مستقبل میں اگرچہ جیوپولیٹیکل کشیدگی برقرار رہی تو توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے، لیکن مکمل بندش کے امکانات کم ہیں جس سے مارکیٹ کی استحکام کے حوالے سے امید افزا صورتحال پیدا ہوتی ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش