ایران کے $7.8 بلین کے کرپٹو شیڈو اکنامی پر بحران کی روشنی

زبان کا انتخاب

ایران میں جاری سیاسی بحران نے ملک کی کرپٹو کرنسیوں کی غیر سرکاری معیشت کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، جس کی مالیت تقریباً 7.8 بلین ڈالر بتائی جاتی ہے۔ یہ کرپٹو نیٹ ورک حکومت کی بین الاقوامی تجارت میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے، خاص طور پر جب ملک پر بین الاقوامی پابندیاں عائد ہیں اور روایتی مالیاتی نظام محدود ہو چکا ہے۔ ایران کی حکومت اس ڈیجیٹل کرنسی انفراسٹرکچر پر انحصار کرتی ہے تاکہ وہ عالمی منڈیوں میں تجارتی تعلقات برقرار رکھ سکے۔
اسی دوران عام ایرانی شہریوں نے بھی کرپٹو کرنسیاں اپنی مالی مدد کے طور پر اپنائی ہیں، خاص طور پر ان حالات میں جب ملک میں احتجاجات اور اقتصادی مشکلات عروج پر ہیں۔ کرپٹو کرنسیوں کے ذریعے لوگ اپنی مالی حالت کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ روایتی بینکنگ نظام کی محدود دستیابی اور کرنسی کی قدر میں کمی نے نقدی کی فراہمی کو مشکل بنا دیا ہے۔
کرپٹو کرنسیوں کا استعمال ایران میں نسبتاً نیا نہیں ہے، مگر حالیہ برسوں میں اس کا دائرہ کار وسیع ہوا ہے۔ حکومت نے بلیک مارکیٹ کے اثرات کو کم کرنے اور بین الاقوامی مالی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کرپٹو کرنسیوں کو متحرک کیا ہے۔ تاہم، اس ڈیجیٹل معیشت کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے باوجود، قانونی اور سیکورٹی کے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں، جن میں ہیکنگ، فراڈ، اور مالیاتی نگرانی کی کمی شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران میں سیاسی بحران جاری رہا اور اقتصادی پابندیاں سخت ہوتی رہیں تو کرپٹو کرنسیوں کا استعمال مزید بڑھ سکتا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی، عالمی مالیاتی ادارے اور حکومتیں کرپٹو کرنسیوں پر نظر رکھنے میں بھی تیزی لاسکتی ہیں تاکہ غیر قانونی مالیاتی سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔
ایران کی اس کرپٹو شیڈو اکنامی کا مستقبل ملکی سیاسی و اقتصادی حالات پر منحصر ہے، اور یہ دیکھا جانا باقی ہے کہ کس طرح یہ ڈیجیٹل مالیاتی نظام ملک کی معیشت کی مدد کرتا ہے یا مزید پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش