مارک کارپیلز، جو ایم ٹی گاکس کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں، نے بٹ کوائن کور پروجیکٹ میں ایک پل ریکویسٹ جمع کروائی جس کا مقصد 2011 سے غیر استعمال شدہ سکے ایک مخصوص ریکوری ایڈریس کی جانب منتقل کرنا تھا۔ یہ ایڈریس ایم ٹی گاکس کے ٹرسٹی کے کنٹرول میں ہوتا، جس سے چوری شدہ یا لاپتہ سکے بازیافت کرنے کی کوشش کی جاتی۔ اس اقدام نے بٹ کوائن کی سب سے قدیم اور متنازعہ بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا۔
ایم ٹی گاکس کبھی دنیا کی سب سے بڑی بٹ کوائن ایکسچینج تھی جہاں لاکھوں بٹ کوائنز کا لین دین ہوتا تھا۔ تاہم، 2014 میں اس ایکسچینج پر بڑے پیمانے پر ہیکنگ کے بعد تقریباً 850,000 بٹ کوائنز چوری ہو گئے، جن کی مالیت اس وقت اربوں ڈالرز میں تھی۔ اس واقعے نے نہ صرف ایم ٹی گاکس کو دیوالیہ کر دیا بلکہ پوری کرپٹو کرنسی مارکیٹ کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ تب سے، متاثرہ صارفین اپنے فنڈز کی واپسی کے لیے قانونی اور تکنیکی جدوجہد کر رہے ہیں۔
کارپیلز کی جانب سے تجویز کردہ ترمیم کو بٹ کوائن کمیونٹی اور ڈویلپرز کی جانب سے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ بٹ کوائن کے بنیادی اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ بلاک چین پر موجود تمام ریکارڈز اور کوائنز کا کنٹرول صارفین کے پاس ہوتا ہے اور کسی بھی مرکزی اتھارٹی کو ان تک رسائی یا ترمیم کی اجازت نہیں ہوتی۔ اس لیے کوڈ میں ایسی تبدیلی جو پرانے اور غیر استعمال شدہ سکے خودکار طریقے سے منتقل کرے، اسے سیکورٹی اور پرائیوسی کے لیے خطرہ سمجھا گیا۔
یہ معاملہ ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ کرپٹو کرنسی کی دنیا میں خودمختاری اور ڈی سینٹرلائزیشن کتنی اہم ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی دکھاتا ہے کہ بڑے پیمانے پر چوری یا نقصان کی صورت میں متاثرہ افراد کو انصاف ملنا کتنی مشکل ہو جاتی ہے۔ اگرچہ اس تجویز کو فوری طور پر مسترد کر دیا گیا ہے، مگر ایم ٹی گاکس کے متاثرین کے لیے ریکوری کے امکانات اور طریقے اب بھی ایک سنگین موضوع ہیں۔
آئندہ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کرپٹو کرنسی کمیونٹی اور قانونی ادارے اس طرح کے معاملات کو کس طرح حل کرتے ہیں، تاکہ مستقبل میں صارفین کے حقوق کا تحفظ ممکن ہو سکے اور مارکیٹ میں اعتماد بحال رہ سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk