ٹرمپ نے پینٹاگون تنازع کے بعد وفاقی اداروں کو ان تھروپک اے آئی کے استعمال سے دستبردار ہونے کا حکم دیا

زبان کا انتخاب

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وفاقی اداروں کو چھ ماہ کے اندر ان تھروپک کمپنی کے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے نظاموں کو ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب پینٹاگون اور ان تھروپک کے درمیان عسکری حفاظتی اقدامات کے حوالے سے اختلافات پیدا ہوئے۔ ان تھروپک ایک معروف اے آئی کمپنی ہے جو جدید اور خودکار ذہانت کی ٹیکنالوجی فراہم کرتی ہے اور اس کے مصنوعات متعدد سرکاری اور نجی اداروں میں استعمال ہوتے ہیں۔
پینٹاگون نے ان تھروپک کے نظاموں میں حفاظتی مسائل کی نشاندہی کی تھی جو ممکنہ طور پر فوجی ڈیٹا اور آپریشنز کی سیکیورٹی کو خطرے میں ڈال سکتے تھے۔ اس پیش رفت کے بعد صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ کسی بھی وفاقی ادارے کو ایسے اے آئی پلیٹ فارمز استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو ملک کی سلامتی کے لیے خدشات پیدا کریں۔ یہ اقدام امریکی حکومت کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے استعمال میں مزید احتیاط اور نگرانی کو ظاہر کرتا ہے۔
ان تھروپک کی اے آئی ٹیکنالوجی نے گزشتہ چند سالوں میں کئی اہم پیش رفت کی ہیں اور اسے تکنیکی دنیا میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ تاہم، حکومت کی جانب سے اس طرح کے پابندیاں لگانا اس بات کا اشارہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی سیکیورٹی اور اخلاقی پہلوؤں پر بڑھتی ہوئی توجہ دی جا رہی ہے۔ یہ اقدام دیگر اے آئی کمپنیوں اور ٹیکنالوجی فراہم کنندگان کے لیے بھی انتباہ ہو سکتا ہے کہ انہیں اپنے نظاموں کو سخت حفاظتی معیار کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔
ابھی واضح نہیں کہ ان تھروپک کے صارفین کو اس پابندی کے فوری اثرات کیا ہوں گے اور آیا کمپنی اپنے نظاموں میں حفاظتی بہتری لا کر دوبارہ وفاقی اداروں کی خدمات حاصل کر پائے گی یا نہیں۔ تاہم، یہ واقعہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں حکومت اور نجی شعبے کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوششوں کو مزید تقویت دیتا ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش