این تھروپک کے سی ای او کا تین سال کے اندر اے آئی پر مبنی قوم کے قیام کی پیش گوئی

زبان کا انتخاب

این تھروپک کے سی ای او، ڈاریو اموڈی نے مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ تین برسوں کے اندر ایک ایسی قوم وجود میں آ سکتی ہے جو متعدد ذہین اداروں پر مشتمل ہو گی۔ ان کے مطابق ڈیٹا سینٹرز ایسے سپر انٹیلیجنس سسٹمز کی بنیاد بنیں گے جو ایک ‘رہبر قوم’ کی شکل اختیار کر لیں گے۔ ڈاریو اموڈی کا کہنا ہے کہ اگلے دس سالوں میں اس کے امکانات 95 فیصد ہیں، تاہم ان کی ذاتی رائے میں یہ تبدیلی ایک سے تین سال کے اندر ممکن ہے۔
این تھروپک، ایک معروف مصنوعی ذہانت کی تحقیقاتی کمپنی ہے جو جدید مشینی سیکھنے اور نیورل نیٹ ورکس کی ترقی میں سرگرم عمل ہے۔ مصنوعی ذہانت کی دنیا میں حالیہ برسوں میں زبردست پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے، جس نے مختلف شعبوں میں انقلاب برپا کیا ہے، چاہے وہ صحت کا شعبہ ہو، مالیات یا خودکار گاڑیاں۔ اس پس منظر میں، اموڈی کی پیش گوئی نے ایک نئے تصور کو جنم دیا ہے جس میں نہ صرف ذاتی اے آئی ماڈلز بلکہ ایک مکمل ذہین معاشرہ یا قوم کا قیام بھی ممکن ہو سکے گا۔
ماہرین کے مطابق، اگرچہ مصنوعی ذہانت میں یہ ترقی حیران کن ہے، تاہم اس کے ساتھ اخلاقی، سماجی اور قانونی چیلنجز بھی وابستہ ہیں۔ ایسے ذہین نظاموں کی خود مختاری، ان کے فیصلوں کی شفافیت، اور انسانی اقدار کے ساتھ ہم آہنگی طویل مدتی موضوعات رہیں گے۔ اس کے علاوہ، اس قسم کے نظاموں کی تخلیق عالمی سطح پر طاقت کے توازن کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
اگر یہ پیش گوئی درست ثابت ہوتی ہے تو آنے والے برسوں میں دنیا کی معیشت، سیاست اور معاشرتی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی یہ ‘قوم’ کس طرح کام کرے گی، اس کے حقوق کیا ہوں گے اور وہ عالمی برادری میں کس حیثیت سے شامل ہوگی، یہ تمام سوالات آئندہ بحث و مباحثے کا حصہ ہوں گے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش