این تھروپک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاریو امودی نے مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے حوالے سے اپنی گہری امید کا اظہار کیا ہے کہ اگلے تین سال کے اندر ایک ایسی قوم وجود میں آ سکتی ہے جو متعدد ذہین نظاموں پر مشتمل ہو گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیٹا سینٹرز میں سپر انٹیلیجنٹ سسٹمز کی مدد سے “نیشن آف جینیئسز” یعنی ذہین افراد کی ایک ریاست قائم ہو سکتی ہے۔
این تھروپک ایک معروف مصنوعی ذہانت کی کمپنی ہے جو جدید AI ماڈلز کی تحقیق اور ترقی میں پیش پیش ہے۔ دنیا بھر میں AI ٹیکنالوجی کی تیزی سے ترقی نے مختلف صنعتوں کو بدل کر رکھ دیا ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل میں یہ نظام انسانی معاشروں کے لیے بنیادی کردار ادا کریں گے۔ امودی کے مطابق، اگلے دس سالوں میں ڈیٹا سینٹرز کی بنیاد پر قائم ہونے والی یہ نئی “قوم” ایسی ہو گی جو نہ صرف خود مختار ہو گی بلکہ اپنی ذہانت کی بنیاد پر مختلف مسائل کا حل بھی تلاش کر سکے گی۔
یہ پیش گوئی اس تناظر میں اہم ہے کہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں حالیہ برسوں میں بے مثال ترقی ہوئی ہے، جس میں مشین لرننگ اور نیورل نیٹ ورک کی بدولت کمپیوٹرز نے انسانی دماغ کی بہت سی صلاحیتوں کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ تاہم، اس نئی “AI نیشن” کے سامنے کئی چیلنجز بھی موجود ہیں، جیسے اس کی خودمختاری، انسانی حقوق، اور تکنیکی و اخلاقی حدود۔
آگے چل کر، مصنوعی ذہانت کی اس سطح پر ترقی سے دنیا بھر کی معیشت، حکومتی نظام، اور روزمرہ زندگی میں نمایاں تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی محتاط رویہ اختیار کرنا بھی ضروری ہے تاکہ AI کے ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔