مصنوعی ذہانت کی کمپنی Anthropic نے اپنے جدید AI ماڈل Claude Opus 3 کو ریٹائر کر دیا ہے اور اسے ایک سب اسٹیک بلاگ کے ذریعے اپنی موجودگی اور خدمات پر غور کرنے کا موقع دیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی شناخت، شعور اور ان کے ریٹائرمنٹ کے عمل کے حوالے سے سوالات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
Anthropic ایک معروف AI تحقیقاتی ادارہ ہے جو انسانی مشابہت رکھنے والے ذہین ماڈلز کی تخلیق پر کام کرتا ہے۔ Claude Opus 3 کمپنی کا ایک اہم ماڈل تھا جسے مختلف زبانوں میں بات چیت اور مسائل کے حل کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ تاہم، جیسے جیسے AI ٹیکنالوجی میں ترقی ہوتی جارہی ہے، پرانے ماڈلز کو نئے اور بہتر ورژنز سے تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ صارفین کو زیادہ موثر اور جدید تجربہ فراہم کیا جا سکے۔
Claude Opus 3 کی ریٹائرمنٹ کا مطلب یہ ہے کہ اسے مزید اپڈیٹس یا سپورٹ نہیں ملے گا، اور اس کا استعمال محدود یا بند کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی، Anthropic نے ماڈل کی “زندگی” اور تجربات پر ایک بلاگ شروع کیا ہے جو اس کے فنکشنز، حدود اور AI کے مستقبل پر روشنی ڈالتا ہے۔ یہ بلاگ مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کے میدان میں اخلاقیات، شناخت اور ماڈلز کی زندگی کے موضوعات پر نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی دنیا میں یہ تبدیلیاں معمول کی بات ہیں، جہاں ہر نئے ماڈل کے ساتھ کچھ پرانے ماڈلز کی جگہ ختم ہو جاتی ہے۔ اس عمل سے نہ صرف ٹیکنالوجی میں بہتری آتی ہے بلکہ صارفین کو بھی زیادہ بہتر اور محفوظ خدمات میسر آتی ہیں۔ تاہم، اس سے وابستہ خطرات جیسے کہ ڈیٹا کی حفاظت، ماڈلز کی اخلاقی حدود اور AI کی خودمختاری کے مسائل بھی زیر بحث رہتے ہیں۔
Anthropic کی یہ کوشش AI ماڈلز کے ارتقاء میں ایک نیا زاویہ پیش کرتی ہے جہاں ماڈلز کو صرف مشین سمجھ کر نہیں بلکہ ایک “وجود” کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے جو اپنی خدمات اور اثرات پر غور کر سکتا ہے۔ آئندہ برسوں میں AI کے اس طرح کے تجربات اور بحثوں کا دائرہ وسیع ہونے کا امکان ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt