مصنوعی ذہانت کے اثرات سے سافٹ ویئر اسٹاکس میں کمی، مگر گری اسکیل کا بلاک چین پر اعتماد برقرار

زبان کا انتخاب

ٹیکنالوجی کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کی تیزی سے ترقی نے سافٹ ویئر کمپنیوں کے حصص میں نمایاں کمی دیکھی جارہی ہے جس سے سرمایہ کاروں میں بے چینی پھیل گئی ہے۔ تاہم، گری اسکیل کی ریسرچ ٹیم کے سربراہ نے کہا ہے کہ بلاک چین ٹیکنالوجی مستقبل میں ذہین ایجنٹس کے لین دین کو ممکن بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی اور اس طرح ابھرتے ہوئے خطرات کا تدارک ممکن ہوگا۔
مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے باوجود، اس کی تکنیکی پیچیدگیوں اور مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال نے سافٹ ویئر کمپنیوں کے حصص کو متاثر کیا ہے۔ دوسری جانب، بلاک چین ٹیکنالوجی ایک محفوظ اور شفاف فریم ورک فراہم کرتی ہے جو ڈیجیٹل لین دین کو زیادہ موثر اور قابل اعتبار بناتا ہے۔ گری اسکیل جیسے بڑے سرمایہ کاری ادارے بلاک چین کو مستقبل کی ٹیکنالوجی کے طور پر دیکھ رہے ہیں جو نہ صرف مالیاتی شعبے بلکہ دیگر صنعتی شعبوں میں بھی انقلاب لارہی ہے۔
بلاک چین کی مدد سے ذہین ایجنٹس خودکار اور محفوظ لین دین کر سکیں گے، جس سے کاروباری عمل میں شفافیت اور رفتار میں اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ، بلاک چین نیٹ ورکس میں موجود ڈیٹا کی حفاظت اور اس کی سالمیت کو یقینی بنانے کی صلاحیت مصنوعی ذہانت کے خطرات کو کم کر سکتی ہے۔
آنے والے وقت میں، بلاک چین ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے امتزاج سے نئی مارکیٹ کی تخلیق اور موجودہ کاروباری ماڈلز میں نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں۔ تاہم، اس ترقی کے ساتھ ہی تکنیکی چیلنجز اور سیکیورٹی کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں جن پر قابو پانا ضروری ہوگا۔
اس طرح، جبکہ مارکیٹ میں موجودہ اتار چڑھاؤ جاری ہے، گری اسکیل کا مؤقف بلاک چین ٹیکنالوجی کی اہمیت اور اس کے وسیع امکانات پر زور دیتا ہے جو مستقبل میں ٹیکنالوجی کے شعبے کو نئی راہوں پر گامزن کر سکتا ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے