عالمی مالیاتی ادارہ سٹی بینک بٹ کوائن کو روایتی مالیاتی نظام کے ساتھ مربوط کرنے کے لیے نئی انفراسٹرکچر متعارف کرانے جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بٹ کوائن کو بینک کے نظام میں شامل کر کے اسے مزید قابلِ قبول اور قابلِ تجارت بنانا ہے۔ سٹی کے ڈیجیٹل اثاثہ کسٹوڈی ڈیولپمنٹ کی سربراہ نیشا سُریندرن نے بتایا کہ یہ منصوبہ ادارہ جاتی معیار کی کسٹوڈی، کلید انتظام اور والٹ سروسز فراہم کرے گا تاکہ صارفین اپنی کرپٹو کرنسی کو آسانی سے محفوظ رکھ سکیں۔
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب سٹی بینک نے بٹ کوائن کو “بینکایبل” بنانے کے لیے ایک تین سطحی حکمت عملی پر کام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس حکمت عملی میں کسٹوڈی، موجودہ رپورٹنگ اور ٹیکس نظام کے ساتھ انضمام، اور صارفین کے لیے ڈیجیٹل اثاثوں تک آسان رسائی شامل ہے۔ سٹی کے اس نئے انفراسٹرکچر کے ذریعے صارفین بٹ کوائن کی پوزیشنز کو اپنے روایتی اثاثوں کے ساتھ مینج کر سکیں گے، جبکہ بینک اپنی موجودہ مالیاتی رپورٹنگ، ٹیکس ورک فلو اور تعمیل کے فریم ورک کو بھی بٹ کوائن پر نافذ کرے گا۔
نیشا سُریندرن نے مزید کہا کہ صارفین کو والٹس، پرائیویٹ کیز یا ون ٹائم ایڈریسز کو خود مینیج کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ سٹی بینک یہ تمام معاملات اپنے انفراسٹرکچر کے تحت سنبھالے گا۔ بینک کے پاس سیکورٹیز اور منی مارکیٹ پروڈکٹس میں تقریباً 30 ٹریلین ڈالر کے کلائنٹ اثاثے موجود ہیں، جس سے اس کے بٹ کوائن کے اشتراک کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بٹ کوائن کی قیمت میں حال ہی میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ دسمبر 2025 میں سٹی کے تجزیہ کاروں نے پیش گوئی کی تھی کہ بٹ کوائن کی قیمت 2026 میں بڑھ کر ایک خاص حد تک پہنچ سکتی ہے، جس کی وجہ امریکہ میں ای ٹی ایف کی بڑھتی ہوئی قبولیت اور سازگار قواعد و ضوابط ہیں۔
اسی تقریب میں مورگن اسٹینلی نے بھی اپنے ڈیجیٹل اثاثہ جات کی خدمات کو بڑھانے کے منصوبے کا اعلان کیا، جس میں کرپٹو کسٹوڈی اور ایکسچینج پلیٹ فارم شامل ہیں۔ یہ دونوں بڑے مالیاتی ادارے کرپٹو کرنسی کی مقبولیت اور مالیاتی نظام میں اس کی شمولیت کی جانب اہم قدم اٹھا رہے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine