بٹ کوائن کی قیمت میں منگل کی درمیانی بحالی کے بعد بدھ کو کمی دیکھی گئی اور یہ 67,000 ڈالر کی سطح سے نیچے آ گئی۔ اس کمی کی بنیادی وجہ نیسڈیک انڈیکس میں تقریباً دو فیصد کی گراوٹ بتائی جا رہی ہے، جو این ویڈیا کے مالی نتائج کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے کیے گئے سیل آف کا نتیجہ ہے۔ این ویڈیا ایک معروف امریکی کمپنی ہے جو گرافکس پروسیسنگ یونٹس (GPUs) کی تیاری کرتی ہے اور اس کی کارکردگی ٹیکنالوجی مارکیٹ کے عمومی رجحانات پر اثر انداز ہوتی ہے۔
کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ میں بٹ کوائن کی قیمت کا اتار چڑھاؤ عام بات ہے، لیکن حالیہ دنوں میں ٹیکنالوجی سیکٹر میں آنے والی تبدیلیوں نے اس پر واضح اثر ڈالا ہے۔ نیسڈیک انڈیکس، جو کہ بنیادی طور پر ٹیکنالوجی کمپنیوں کا مجموعہ ہے، کی کارکردگی کا براہ راست اثر کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں پر پڑتا ہے کیونکہ سرمایہ کار عام طور پر ان دونوں میں متوازی سرمایہ کاری کرتے ہیں۔
بٹ کوائن دنیا کی سب سے بڑی اور معروف کرپٹو کرنسی ہے، جسے ڈیجیٹل گولڈ بھی کہا جاتا ہے، اور اس کی قیمت میں اتار چڑھاؤ عالمی سرمایہ کاری کے رجحانات اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مالی کارکردگی سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ اس سال بٹ کوائن کی قیمت میں کئی بار اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے، جس کا تعلق عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال اور مالیاتی مارکیٹوں کے بدلتے ہوئے حالات سے ہے۔
اگرچہ اس کمی سے سرمایہ کاروں میں کچھ خدشات پیدا ہو سکتے ہیں، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ کرپٹو کرنسی مارکیٹ کے لیے یہ معمول کی صورتحال ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ قیمتوں میں استحکام آ سکتا ہے۔ تاہم، ٹیکنالوجی سیکٹر کی کارکردگی اور عالمی مالیاتی مارکیٹوں کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے مزید اتار چڑھاؤ کا امکان بھی موجود ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance