امریکہ کے قانون سازوں، اسکاٹ فٹزجرالڈ، بین کلائن، اور زوئی لوفرگن نے 2026 کے لیے بلاک چین انوویشن ایکٹ پیش کیا ہے جس کا مقصد سافٹ ویئر ڈیولپرز کو امریکی کوڈ کی سیکشن 1960 کے تحت مجرمانہ ذمہ داری سے بچانا ہے۔ اس تجویز کردہ قانون کے تحت واضح کیا گیا ہے کہ سیکشن 1960 صرف ان اداروں پر لاگو ہوتا ہے جو صارفین کے فنڈز کا کنٹرول رکھتے ہیں، نہ کہ صرف کوڈ لکھنے والے ڈیولپرز پر۔
یہ قانون خاص طور پر کرپٹو کرنسی اور ڈی سینٹرلائزڈ فنانس (DeFi) کے شعبے میں اہمیت کا حامل ہے، جہاں ڈیولپرز نے اس شق کو کلیرٹی ایکٹ میں شامل کرنے کی حمایت کی تھی۔ سیکشن 1960 کا اصل ہدف کاسٹوڈیل منی ٹرانسفر ادارے تھے، لیکن حالیہ مقدمات جیسے کہ ٹورنیڈو کیش اور سامورائی والیٹ میں اس کا اطلاق غیرکاسٹوڈیل سافٹ ویئر ڈیولپرز پر بھی کیا گیا ہے، جو صارفین کے فنڈز کا انتظام نہیں کرتے۔ اس کی وجہ سے کرپٹو ڈیولپرز اور ریگولیٹری اداروں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔
کرپٹو کرنسیز کی دنیا میں بلاک چین ٹیکنالوجی کی ترقی نے مالیاتی نظام کو تبدیل کر دیا ہے، جس کی وجہ سے قانون سازی میں نئی پیچیدگیاں بھی سامنے آئیں۔ اس ایکٹ کے ذریعے ڈیولپرز کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ وہ بلا خوف و خطر نئی ایپلیکیشنز اور پروٹوکولز تیار کر سکیں۔ مستقبل میں اس قانون کے نفاذ سے کرپٹو انڈسٹری میں سرمایہ کاری اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے، تاہم ریگولیٹری فریم ورک میں توازن قائم رکھنا اب بھی چیلنج ہوگا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance