بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کا دو روزہ دورہ مکمل کیا جس کا مرکزی مقصد دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا اور دو طرفہ آزاد تجارتی معاہدے کو آگے بڑھانا تھا۔ اس دورے کے دوران، مودی نے دونوں ممالک کے مابین مشترکہ تحقیق و ترقی، پیداوار، اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر زور دیا، خاص طور پر دفاعی شعبے میں۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ موقف کو بھی دہرایا اور عالمی سطح پر صفر برداشت کی حمایت کی۔
مودی کا یہ دورہ ان کے 2014 میں وزیراعظم بننے کے بعد اسرائیل کا دوسرا دورہ تھا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو مزید گہرائی حاصل ہوئی ہے۔ بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعلقات گزشتہ برسوں میں تیزی سے بڑھے ہیں، جس میں جدید ہتھیاروں کی خریداری، مشترکہ فوجی مشقیں، اور جدید ٹیکنالوجی کی ترقی شامل ہے۔ دونوں ممالک خطے میں سلامتی کے چیلنجز کے پیش نظر اس تعاون کو اہمیت دے رہے ہیں۔
دفاع اور تجارت کے علاوہ، یہ دورہ مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے بھی ایک اہم موقع تھا، جس میں سائنس، ٹیکنالوجی، اور زرعی شعبے شامل ہیں۔ آزاد تجارتی معاہدے کی بات چیت دونوں ممالک کی معیشتوں کو مزید مستحکم کرنے اور تجارتی روابط کو بڑھانے کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔
اگرچہ اس تعاون سے دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا اور اقتصادی تعلقات مضبوط ہوں گے، تاہم خطے کی سیاسی پیچیدگیوں اور بین الاقوامی سطح پر بدلتے ہوئے رجحانات کے پیش نظر اس میں چیلنجز بھی موجود ہیں۔ مستقبل میں دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری کی توقع کی جا رہی ہے، جس سے خطے میں استحکام اور ترقی کو فروغ مل سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance