ایتھیریم کے اسپاٹ ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ETFs) میں حالیہ دنوں میں سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے نتیجے میں 25 فروری کو نیٹ ان فلو 157 ملین ڈالر تک پہنچ گیا۔ اس دوران مارکیٹ میں درج نو ای ٹی ایف میں سے کسی ایک میں بھی نیٹ آؤٹ فلو نہیں ہوا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ رہا ہے۔
فیدیلٹی کے ایتھیریم ای ٹی ایف، جسے FETH کہا جاتا ہے، نے اس دن سب سے زیادہ سرمایہ کاری حاصل کی، تقریباً 61.94 ملین ڈالر، اور اس کے تاریخی مجموعی نیٹ ان فلو کی مالیت اب 2.524 بلین ڈالر ہو چکی ہے۔ یہ اسے ادارہ جاتی سطح پر ایتھیریم میں سرمایہ کاری کے لیے ایک اہم ذریعہ بناتا ہے۔ اس کے بعد، گرے اسکیل کے ایتھیریم ٹرسٹ ای ٹی ایف ETHE نے 33.87 ملین ڈالر کی نیٹ سرمایہ کاری ریکارڈ کی، تاہم اس کا مجموعی نیٹ آؤٹ فلو اب بھی 5.154 بلین ڈالر کے قریب ہے، جو اس کی طویل مدتی سرمایہ کاری کی منتقلی کی نشاندہی کرتا ہے۔
اس وقت ایتھیریم اسپاٹ ای ٹی ایف کا کل نیٹ اثاثہ قدر 11.842 بلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے جبکہ ای ٹی ایف کی مارکیٹ کیپ کا تناسب ایتھیریم کی کل مارکیٹ کیپ کے مقابلے میں 4.73 فیصد تک جا پہنچا ہے۔ یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ ای ٹی ایف مارکیٹ میں ایتھیریم کی مقبولیت بڑھ رہی ہے اور سرمایہ کاروں کی دلچسپی اس میں مستحکم ہے۔
ایتھیریم ایک مشہور بلاک چین پلیٹ فارم ہے جس کی اپنی کرپٹو کرنسی ETH ہے۔ ای ٹی ایف کی صورت میں سرمایہ کاروں کو براہ راست کرپٹو کرنسی خریدے بغیر اس میں سرمایہ کاری کا موقع ملتا ہے، جس سے مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ اس طرح کے مالیاتی آلات ادارہ جاتی اور چھوٹے سرمایہ کاروں کو کرپٹو مارکیٹ میں شرکت کی سہولت فراہم کرتے ہیں اور مارکیٹ کی شفافیت اور لیکویڈیٹی کو بڑھاتے ہیں۔
مستقبل میں، اگر سرمایہ کاری کا رجحان جاری رہا تو ایتھیریم اور اس کے ای ٹی ایفز کی مارکیٹ میں مزید وسعت متوقع ہے، لیکن کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ کی غیر یقینی نوعیت کے پیش نظر سرمایہ کاری کے خطرات بھی موجود رہیں گے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance