مہارت کی ترقی میں مصنوعی ذہانت کے کردار پر بحث

زبان کا انتخاب

حالیہ دنوں میں مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے مہارتوں کی ترقی کے موضوع پر ایک اہم بحث ابھری ہے۔ ایک ادارہ جاتی سرمایہ کار نے اس حوالے سے ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر گفتگو شروع کی جس میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ کیا AI کے استعمال سے حاصل کی گئی مہارتوں کا امتحان بغیر AI کے لیا جانا چاہیے یا نہیں۔ اس مباحثے میں دو مختلف نظریات سامنے آئے ہیں۔
تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اگر سیکھنے کا عمل مکمل طور پر AI پر منحصر ہو جائے تو افراد حقیقی دنیا کی صورتحال میں روایتی طریقوں سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار نہیں ہوتے۔ ان کے نزدیک، AI کے بغیر مہارتوں کا امتحان ضروری ہے تاکہ اس بات کی تصدیق ہو سکے کہ سیکھنے والے نے حقیقی قابلیت حاصل کی ہے جو مشکل حالات میں بھی قابلِ عمل ہو۔
دوسری جانب، AI کے حامی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی سیکھنے کے عمل کو مؤثر اور جدید بناتی ہے، جس سے مہارتیں تیزی سے اور بہتر طریقے سے سیکھی جا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق، موجودہ دور میں تعلیم اور تربیت کے نظام میں AI کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے کیونکہ یہ افراد کو جدید تقاضوں کے مطابق تیار کرتا ہے۔
مصنوعی ذہانت تعلیم کے مختلف شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لا رہی ہے، خاص طور پر تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیت میں اس کا کردار بڑھتا جا رہا ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے ممکنہ نقصانات اور چیلنجز کو بھی سمجھا جائے تاکہ تعلیمی نظام میں توازن قائم رکھا جا سکے۔
یہ بحث اس وقت خاص اہمیت اختیار کر گئی ہے کیونکہ دنیا بھر کے تعلیمی ادارے اور تربیتی پروگرام AI کو اپنا رہے ہیں اور اس کے اثرات کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آئندہ دور میں ممکن ہے کہ AI کی مدد سے حاصل کردہ مہارتوں کے امتحانات کے لیے خاص قواعد و ضوابط وضع کیے جائیں تاکہ معیار اور قابلیت کی یقین دہانی کی جا سکے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش