ڈی ایچ ایس کی نگرانی پر آئینی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے خدشات میں اضافہ

زبان کا انتخاب

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) کی جانب سے امیگریشن کے نفاذ میں نگرانی کی ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے امریکی شہریوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ نگرانی کے یہ اقدامات نجی زندگی اور شہری آزادیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ انہوں نے موجودہ پالیسیوں کی دوبارہ جانچ پڑتال کی ضرورت پر زور دیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ قومی سلامتی کے تحفظ کے ساتھ ساتھ شہری حقوق کا بھی احترام کیا جائے۔
یہ بحث اس وقت سامنے آئی جب مختلف تجزیہ کاروں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ڈی ایچ ایس کی نگرانی کی پالیسیاں توسیع پا رہی ہیں، جس سے ممکنہ طور پر شہریوں کی پرائیویسی متاثر ہو سکتی ہے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ ایک متوازن حکمت عملی اپنانا ضروری ہے جو نہ صرف ملک کی حفاظت کرے بلکہ افراد کے بنیادی حقوق کی حفاظت بھی کرے۔
ڈی ایچ ایس کا قیام 2002 میں 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کے بعد ہوا تھا تاکہ ملک کی داخلی سلامتی کو مضبوط کیا جا سکے۔ اس کے تحت سرحدی تحفظ، امیگریشن کی نگرانی، اور دہشت گردی کی روک تھام جیسے امور شامل ہیں۔ تاہم، حالیہ برسوں میں نگرانی کی ٹیکنالوجی کا استعمال اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ اس نے شہری آزادیوں کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا ہے۔
ماہرین کی رائے ہے کہ اگرچہ قومی سلامتی ایک اہم ترجیح ہے، مگر اس کے لیے استعمال ہونے والی نگرانی کی تکنیکوں کو اس طرح مرتب کیا جانا چاہیے کہ وہ آئینی حقوق کی خلاف ورزی نہ کریں۔ اس ضمن میں قانون سازوں اور حکومتی اداروں کو چاہیے کہ وہ اس توازن کو برقرار رکھیں تاکہ شہریوں کی پرائیویسی اور آزادیوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش