شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن نے ملک کے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کو بڑھانے اور میزائل صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا امکان بھی ظاہر کیا، تاہم یہ بات واشنگٹن کی جانب سے شمالی کوریا کو جوہری طاقت کے طور پر تسلیم کرنے کی شرط پر منحصر ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور سفارتی چیلنجز جاری ہیں۔
کِم جونگ اُن کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ شمالی کوریا اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے پر خاص توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کے ساتھ ممکنہ سفارتی رابطوں کے لیے دروازہ بھی کھلا رکھنا چاہتا ہے۔ شمالی کوریا کی جوہری اور میزائل پروگرامز نے بین الاقوامی برادری میں تشویش پیدا کی ہے اور اس خطے میں سیکیورٹی کے مسائل کو بڑھایا ہے۔
گزشتہ برسوں میں شمالی کوریا کی جانب سے متعدد میزائل تجربات اور جوہری دھماکوں کی اطلاعات نے عالمی سلامتی کے لیے خطرات کو بڑھایا ہے، اور امریکہ سمیت دیگر عالمی طاقتوں نے اس معاملے پر سخت موقف اختیار کیا ہے۔ تاہم، کِم جونگ اُن کی جانب سے تعلقات بہتر بنانے کا اشارہ ممکنہ سفارتی پیش رفت کی جانب ایک اشارہ بھی ہو سکتا ہے، بشرطیکہ دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کی فضا قائم ہو۔
آئندہ چند مہینوں میں شمالی کوریا کی جوہری اور میزائل پروگرامز میں توسیع اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کی نوعیت عالمی سیاسی منظرنامے پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اگرچہ کشیدگی برقرار رہنے کا امکان بھی موجود ہے، لیکن سفارتی کوششیں خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance