آسٹریلیا کے شماریاتی ادارے نے جنوری کے مہنگائی رپورٹ میں کچھ عناصر کی پیمائش میں مسائل کی نشاندہی کی ہے جس کے باعث متعلقہ ڈیٹا کو دوبارہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ اقدام مہنگائی کی درست تصویر کشی اور اعداد و شمار کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ ادارے کے مطابق مجموعی صارف قیمت اشاریہ (CPI) کے اعداد و شمار، جن میں کل مہنگائی کے اشاریے، ایڈجسٹ کیے گئے اوسط اور ذیلی اشاریے شامل ہیں، متاثر نہیں ہوئے ہیں اور ان کی شرح تبدیلی بھی برقرار ہے۔
جنوری مہنگائی رپورٹ کے ابتدائی اجراء کے بعد مارکیٹ میں مئی میں شرح سود میں اضافے کی توقعات میں اضافہ دیکھا گیا تھا، جس سے معاشی مبصرین اور سرمایہ کاروں کی توجہ مرکوز ہو گئی تھی۔ اب جب رپورٹ دوبارہ جاری کی جائے گی تو ماہرین معاشیات اس کا بغور جائزہ لیں گے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ مہنگائی کے تسلسل کے بارے میں خدشات کتنے درست ہیں اور اس کا آئندہ معاشی پالیسیوں پر کیا اثر پڑے گا۔
آسٹریلیا کے مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں تبدیلی کا فیصلہ مہنگائی کی صورتحال اور معاشی نمو کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، جس کا اثر ملک کی معیشت اور عالمی مالیاتی منڈیوں پر پڑتا ہے۔ مہنگائی کی درست پیمائش معاشی استحکام کے لیے نہایت اہم ہے کیونکہ یہ عوام کی خریداری کی طاقت اور سرمایہ کاری کے رجحانات کو متاثر کرتی ہے۔
دوران حال اگرچہ صارف قیمت اشاریہ میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہوئی، مگر رپورٹ کی تجدید سے متعلقہ فریقین کو بہتر معلومات ملیں گی، جو معاشی فیصلوں میں مددگار ثابت ہوں گی۔ اس کے علاوہ، رپورٹ کی تصحیح سے مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی کی صورتحال کم ہو سکتی ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔
آئندہ ہفتوں میں جاری کی جانے والی اس نئی رپورٹ پر معاشی حلقوں کی نظریں مرکوز ہوں گی تاکہ مہنگائی کی موجودہ صورتحال کا درست اور جامع اندازہ لگایا جا سکے اور اس کے مطابق مالیاتی پالیسی کی حکمت عملی ترتیب دی جائے۔