امریکی لیتیئم اسٹاکس میں اضافہ، زمبابوے کی برآمدات پر پابندی کے بعد مارکیٹ میں ہلچل

زبان کا انتخاب

امریکی لیتیئم سے وابستہ کمپنیوں کے اسٹاکس میں پیش مارکیٹ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ خاص طور پر سگما لیتیئم کے حصص میں 8 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جبکہ البیمرل کارپوریشن کے حصص میں چار فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح چلی کی سوسیداد کیمیکا و مائنیرا اور ارجنٹائن کی لیتیئم ای جی کے حصص میں بھی تقریباً چار فیصد کا اضافہ ہوا۔ یہ سب تبدیلیاں زمبابوے کی جانب سے لیتیئم کنسنٹریٹ اور خام معدنیات کی برآمدات معطل کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آئیں۔
زمبابوے دنیا کے نمایاں لیتیئم فراہم کنندگان میں شامل ہے، اور اس کا یہ فیصلہ عالمی لیتیئم مارکیٹ پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ لیتیئم ایک اہم خام مال ہے جو بیٹریوں، خاص طور پر الیکٹرک گاڑیوں اور دیگر توانائی ذخیرہ کرنے والے آلے میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کی بڑھتی ہوئی طلب کی وجہ سے مارکیٹ میں رسد کی کمی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے، جس سے متعلقہ اسٹاکس کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
عالمی لیتیئم مارکیٹ میں زمبابوے کے کردار کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس پابندی سے سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ سپلائی میں کمی توانائی کی منتقلی کے شعبے اور الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔ مزید برآں، مارکیٹ میں اس طرح کی غیر متوقع پابندیاں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی متاثر کر سکتی ہیں، جس کے باعث قیمتوں میں اتار چڑھاؤ متوقع ہے۔
یہ صورتحال سرمایہ کاروں اور صنعت کے ماہرین کے لیے ایک چیلنج ہے کیونکہ وہ لیتیئم کی رسد اور طلب کے توازن کو نئے سرے سے سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ اگر زمبابوے کی پابندی طویل مدتی ثابت ہوئی تو دیگر ممالک اور کمپنیوں کو اپنی پیداوار بڑھانے یا متبادل ذرائع تلاش کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے تاکہ مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے