فوجی عدالت نے xAI کی جانب سے دائر کردہ شکایت کو مسترد کر دیا ہے جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ اوپن اے آئی کے سابق ملازمین نے خفیہ تجارتی معلومات چوری کی ہیں اور اوپن اے آئی اس میں ملوث ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ xAI نے اوپن اے آئی کو اس مبینہ چوری سے جوڑنے میں ناکامی دکھائی ہے، اس لیے مقدمہ خارج کیا جاتا ہے تاہم شکایت دوبارہ دائر کی جا سکتی ہے۔
xAI ایک مصنوعی ذہانت کی کمپنی ہے جو اوپن اے آئی جیسی دیگر کمپنیوں کے ساتھ مقابلہ کرتی ہے۔ اوپن اے آئی ایک معروف ادارہ ہے جس نے مصنوعی ذہانت کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور اس کا مشہور ماڈل “چیٹ جی پی ٹی” دنیا بھر میں استعمال ہو رہا ہے۔ کاروباری دنیا میں ایسے مقدمات عام ہیں جہاں کمپنیاں اپنے تجارتی رازوں کی حفاظت کے لیے قانونی چارہ جوئی کرتی ہیں، خاص طور پر جب سابق ملازمین دوسری کمپنیوں کے ساتھ شامل ہوتے ہیں۔
یہ مقدمہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت کی صنعت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور مسابقت بھی بڑھ رہی ہے۔ تجارتی رازوں کی خلاف ورزی کے الزامات نہ صرف کمپنیوں کے لیے مالی نقصان کا باعث بن سکتے ہیں بلکہ ان کی ساکھ پر بھی منفی اثر ڈالتے ہیں۔ عدالت کی جانب سے مقدمہ خارج کرنے کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ xAI کو اپنی شکایت مزید مضبوط شواہد کے ساتھ دوبارہ دائر کرنی پڑے گی۔
مستقبل میں اس قسم کے مقدمات میں قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ملازمین کی معلومات کی حفاظت کے لیے سخت قواعد و ضوابط نافذ کریں۔ اس کے علاوہ، مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں تجارتی رازوں کی حفاظت ایک چیلنج بنی ہوئی ہے جس پر قانونی ادارے بھی گہری نظر رکھ رہے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt