معروف اسٹیبل کوائن ٹیتر کی مارکیٹ کیپ میں دوبارہ کمی، مسلسل دوسرے ماہ گراوٹ کا خطرہ

زبان کا انتخاب

ڈیجیٹل کرپٹو مارکیٹ میں استحکام کے لیے اہم سمجھے جانے والے اسٹیبل کوائنز میں سے ایک، ٹیتر (Tether) کی مارکیٹ کیپ میں ایک بار پھر کمی واقع ہوئی ہے، جس کے باعث مارکیٹ میں دوسرے مسلسل ماہ کے لیے گراوٹ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ٹیتر، جو امریکی ڈالر کے برابر قیمت رکھنے والا اسٹیبل کوائن ہے، کریپٹو کرنسی کی دنیا میں لیکویڈیٹی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی قدر میں کمی کا مطلب وسیع کریپٹو مارکیٹ کے لیے خدشات کی علامت ہے۔
ٹیتر اور دیگر بڑے اسٹیبل کوائنز کی نمو میں رکاوٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب عالمی کرپٹو مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ بڑھ رہا ہے اور سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے محتاط رویہ اپنا رہے ہیں۔ اسٹیبل کوائنز عام طور پر مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال میں سرمایہ کاروں کو محفوظ پناہ فراہم کرتے ہیں، تاہم ان کی قدر میں کمی سے یہ تصور متاثر ہو سکتا ہے کہ یہ کرپٹو اثاثے مکمل طور پر مستحکم ہیں۔
ٹیتر کو عام طور پر USDT کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ مارکیٹ میں سب سے بڑا اسٹیبل کوائن ہے، جس کا مقصد کرپٹو کرنسی کی قیمتوں میں استحکام لانا اور سرمایہ کاروں کو ایک قابل اعتماد ڈیجیٹل کرنسی مہیا کرنا ہے جو امریکی ڈالر کے برابر ہو۔ اس کے باوجود، حالیہ مہینوں میں اس کی مارکیٹ کیپ میں کمی آنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کاروں کی دلچسپی کم ہو رہی ہے یا وہ دیگر متبادلات کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسٹیبل کوائنز کی مارکیٹ کیپ میں کمی کا رجحان جاری رہا تو اس سے نہ صرف ٹیتر بلکہ دیگر کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، مارکیٹ میں لیکویڈیٹی کی کمی بڑھ سکتی ہے جو سرمایہ کاری کے مواقع کو محدود کر سکتی ہے۔
مجموعی طور پر، ٹیتر کی مارکیٹ کیپ میں کمی اور اسٹیبل کوائنز کی نمو کا رک جانا کریپٹو مارکیٹ کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے، جسے سرمایہ کاروں اور مارکیٹ ریگولیٹرز دونوں کو غور سے دیکھنا ہوگا تاکہ مستقبل میں کسی بڑے مالی بحران سے بچا جا سکے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے