بٹ کوائن مارکیٹ میں طویل عرصے سے جاری مائننگ کیپٹیولیشن کے ختم ہونے کے آثار نظر آ رہے ہیں، جو اس ڈیجیٹل کرنسی کی قیمت کے نچلے درجے پر پہنچنے کا عندیہ دیتے ہیں۔ حالیہ تجزیات اور ہیش ربن کی بازیابی نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ بٹ کوائن کی قیمت میں گراوٹ کا سب سے برا دور گذر چکا ہو سکتا ہے۔ ہیش ربن ایک معروف انڈیکیٹر ہے جو مائننگ کی صورتحال اور نیٹ ورک کی صحت کا جائزہ لیتا ہے، اور اس کی موجودہ حالت سے ظاہر ہوتا ہے کہ مائنرز کی جانب سے اثاثے بیچنے کا دباؤ کم ہو رہا ہے۔
مائننگ کیپٹیولیشن اس وقت ہوتی ہے جب مائنرز اپنی پیداوار کو منافع بخش نہ سمجھ کر بٹ کوائن کو بیچنے لگتے ہیں، جس سے مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ بڑھ جاتا ہے اور قیمتوں میں گراوٹ آتی ہے۔ حالیہ چند مہینوں میں یہ کیفیت اس قدر طویل رہی کہ اسے تاریخ کی طویل ترین کیپٹیولیشن قرار دیا جا رہا ہے۔ اس دوران مائنرز نے کم قیمتوں پر اپنی کرپٹو کرنسی فروخت کی، جس سے مارکیٹ میں مندی کا ماحول پیدا ہوا۔
بٹ کوائن مائننگ ایک ایسا عمل ہے جس میں کمپیوٹرز پیچیدہ ریاضیاتی مسائل حل کر کے نئے بٹ کوائنز پیدا کرتے ہیں، اور اس کے بدلے انہیں انعام کے طور پر کرپٹو کرنسی دی جاتی ہے۔ جب مائننگ کی لاگت مارکیٹ ریٹس سے زیادہ ہو جاتی ہے تو مائنرز اپنی سرگرمیاں محدود کر دیتے ہیں یا کرپٹو بیچنا شروع کر دیتے ہیں، جو مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
اب جبکہ ہیش ربن اور دیگر متعلقہ اشارے مثبت سمت میں جا رہے ہیں، اس کا مطلب ہے کہ مائنرز کی جانب سے فروخت کا دباؤ کم ہو رہا ہے اور وہ اپنی پیداوار کو مارکیٹ میں کم قیمتوں پر فروخت کرنے سے گریزاں ہیں۔ اس سے امید کی جا رہی ہے کہ بٹ کوائن کی قیمت جلد اپنی کفِ قیمت پر پہنچ کر مستحکم ہو جائے گی۔
تاہم، کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ ہمیشہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہے، اس لیے سرمایہ کاروں کو محتاط رہنا چاہیے اور مارکیٹ کی مزید پیشرفت پر نظر رکھنی چاہیے۔ ممکنہ بہتری کے باوجود عالمی اقتصادی حالات اور ریگولیٹری فیصلے قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk