امریکی سینیٹر رچرڈ بلومن تھل نے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بنانس کے شریک چیف رچرڈ ٹینگ کو ایک خط لکھ کر ایرانی اداروں کے ساتھ اس کے مبینہ لین دین اور مبینہ طور پر تحقیقات کرنے والے عملے کی برطرفی کے بارے میں ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ یہ اقدام امریکی قانون سازوں کی جانب سے بنانس کے خلاف بڑھتی ہوئی تشویش کا مظہر ہے کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے ایران سے تعلق رکھنے والے افراد اور اداروں کو مالی امداد فراہم کی گئی ہے، جو امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔
بنانس دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج ہے جس نے عالمی سطح پر کرپٹو مارکیٹ میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ تاہم، اس کی سرگرمیوں پر مسلسل نگرانی بھی جاری ہے کیونکہ مختلف ممالک میں کرپٹو کرنسی کے استعمال اور اس کے قانونی پہلوؤں پر مختلف قوانین نافذ ہیں۔ امریکی حکام نے گزشتہ برسوں میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے غیر قانونی مالیاتی سرگرمیوں کو روکنے کی کوششیں تیز کی ہیں، جس میں پابندیوں کی خلاف ورزی، منی لانڈرنگ، اور دہشت گردی کی مالی معاونت شامل ہے۔
ایرانی اداروں کو فنڈز کے مبینہ بہاؤ کی تحقیقات سے بنانس کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے اور اضافی قانونی مشکلات کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، بنانس پر امریکی تحقیقات اور ممکنہ پابندیاں مستقبل میں عالمی کرپٹو مارکیٹ پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں، خاص طور پر ایسے پلیٹ فارمز کے حوالے سے جو پابندیوں کے تابع ممالک کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں۔
کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ میں شفافیت اور قانونی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے عالمی سطح پر سخت نگرانی اور قوانین نافذ کیے جا رہے ہیں، جس کے تحت بنانس جیسے بڑے پلیٹ فارمز کی کارروائیوں کی جانچ پڑتال کو ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بنانس اس تحقیقات کے دوران کس طرح تعاون کرتا ہے اور آئندہ اس کے کاروباری طریقہ کار میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk