مڈغاسکر کے عبوری صدر نے ماسکو کا دورہ کیا جہاں انہوں نے بی آر آئی سی ایس ممالک کے ساتھ ملک کی اسٹریٹجک وابستگی کو مضبوط کرنے اور روس کے ساتھ شراکت داری کو دوبارہ فعال کرنے پر بات چیت کی۔ یہ ملاقات توانائی کے شعبے میں مشترکہ منصوبوں، خاص طور پر گیزپرم اور روساٹوم کے تعاون پر مرکوز رہی۔ اس کے علاوہ، دونوں فریقین نے فوجی تعاون کو بھی فروغ دینے پر زور دیا جو سوویت دور سے چلا آ رہا ہے، اور انسانی ہمدردی کی امداد میں اضافے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
یہ تعاون افریقی ملکوں میں بی آر آئی سی ایس اور روس کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے کی بڑھتی ہوئی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔ مڈغاسکر جیسا ملک جو اقتصادی اور سکیورٹی محاذ پر نئی شراکت داریوں کی تلاش میں ہے، اس قسم کے تعاون سے اپنی ترقیاتی اور دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ روس کی توانائی کمپنیوں کے ساتھ منصوبے، خاص طور پر نیوکلیئر اور گیس کے شعبوں میں، ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
مڈغاسکر کی یہ حکمت عملی بی آر آئی سی ایس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور عالمی سطح پر طاقت کے توازن میں تبدیلی کی عکاس ہے۔ مستقبل میں، اس تعاون کے نتیجے میں خطے میں سیاسی اور اقتصادی استحکام میں اضافہ ممکن ہے، تاہم اس کے ساتھ ہی علاقائی مسابقت اور عالمی جغرافیائی سیاست میں نئی پیچیدگیاں بھی سامنے آ سکتی ہیں۔ اس طرح کی شراکت داریوں کے ذریعے مڈغاسکر نہ صرف اپنی داخلی ترقی کو فروغ دے سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر اپنی اہمیت بھی بڑھا سکتا ہے۔