قیمتی دھاتیں | سوسائیٹی جنرل: سونا کی دوبارہ قیمت لگانے سے امریکی قرضے کے مسائل حل نہیں ہوں گے

زبان کا انتخاب

سوسائیٹی جنرل نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سونا کی دوبارہ قیمت لگانے سے امریکہ کے قرضے کے مسائل حل نہیں ہوں گے، اگرچہ اس سے مالیاتی بیانات کی حالت بہتر ہو سکتی ہے۔ بینک کے مطابق، سرکاری سطح پر سونے کی خریداری کا عمل موسم بہار میں دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے۔ رپورٹ میں یہ بات زور دے کر کہی گئی ہے کہ سونا مالیاتی رپورٹوں کی ظاہری خوبصورتی کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن یہ امریکہ کے بنیادی قرضے کے چیلنجز کا کوئی حل نہیں ہے۔
سونا روایتی طور پر ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر جب عالمی معیشت غیر یقینی کیفیت میں ہو۔ امریکہ جیسی بڑی معیشت میں جہاں قرضوں کا بوجھ بہت زیادہ ہے، سونے کی قیمت میں اضافہ مالیاتی بیانات کی قدر بڑھا سکتا ہے، لیکن یہ قرضوں کی اصل مقدار یا ان کے حل پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ، امریکہ کے قرضے کی پیچیدگی اور عالمی مالیاتی نظام میں اس کا کردار بہت وسیع اور گہرا ہے، جس کے سبب صرف سونے کی قیمت میں تبدیلی سے مسائل کا خاتمہ ممکن نہیں۔
امریکی حکومت نے گزشتہ برسوں میں مالیاتی استحکام کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، مگر بڑھتے ہوئے قرضے اور مالی خسارے ایک اہم چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ سوسائیٹی جنرل کی رپورٹ میں اس بات کا اشارہ بھی ملا ہے کہ سرکاری سطح پر سونے کی خریداری میں اضافہ مالیاتی بیانات کو بہتر دکھانے کی کوشش ہو سکتی ہے، تاہم حقیقی معاشی بنیادیں مضبوط کرنا ضروری ہے۔
آنے والے دنوں میں اگر امریکہ نے سونے کی خریداری میں اضافہ کیا تو یہ سرمایہ کاروں کے لیے ایک مثبت اشارہ ہو سکتا ہے، لیکن قرضوں کے مسائل کے حل کے لیے جامع مالیاتی اور اقتصادی اصلاحات کی ضرورت رہے گی۔ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا امکان بھی ہے، جو سرمایہ کاروں کے فیصلوں پر اثر انداز ہوگا۔

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش