بٹ کوائن کے بڑے سرمایہ کار کو مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے باعث بھاری نقصانات کا سامنا

زبان کا انتخاب

کرپٹو کرنسی کی عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے دوران ایک بڑے بٹ کوائن سرمایہ کار کو شدید نقصان ہوا ہے۔ 25 فروری کو بٹ کوائن کی قیمتوں میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا جس کے باعث ایک بڑے “وہیل” یعنی بٹ کوائن کے بڑے حامل نے اپنی پوزیشنز میں بھاری لیکویڈیشن کا سامنا کیا۔ بلاک بیٹس کی رپورٹ کے مطابق، کوائن باب کے ایڈریس مانیٹرنگ سسٹم نے اس وہیل کو 0x93 کے ایڈریس سے شناخت کیا ہے جو گزشتہ رات 6 بجے شارٹ پوزیشنز کھولنے کے بعد دو بڑی لیکویڈیشنز کا شکار ہوا، جس کی مجموعی رقم تقریباً 225 بٹ کوائنز تھی۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بٹ کوائن کی قیمتوں میں اچانک اتار چڑھاؤ آیا، جس سے شارٹ پوزیشن رکھنے والوں کو نقصان ہوا۔ شارٹ پوزیشن وہ ہوتی ہے جس میں سرمایہ کار کو توقع ہوتی ہے کہ مارکیٹ کی قیمتیں گریں گی، مگر جب قیمتیں بڑھتی ہیں تو انہیں نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اس نقصان کے بعد، اس بڑے سرمایہ کار نے حکمت عملی بدلتے ہوئے 40 گنا لیوریج کے ساتھ لمبی پوزیشن کھولی، جو تقریباً 11.48 ملین ڈالر کی ہے، اور اس نے یہ پوزیشن اوسطاً 65,500 ڈالر فی بٹ کوائن کی قیمت پر کھولی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سرمایہ کار نے مارکیٹ کے بارے میں اپنی رائے کو بدل کر بُلش یعنی قیمتوں میں اضافے کی توقع ظاہر کی ہے۔
بٹ کوائن، جو کرپٹو کرنسیوں میں سب سے معروف اور قدیم ہے، کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ معمول کی بات ہے اور بڑے سرمایہ کاروں کی حرکات سے مارکیٹ پر واضح اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایسے بڑے لیکویڈیشن واقعات عام طور پر مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھاتے ہیں، اور سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کا پیغام دیتے ہیں۔ مستقبل میں، اگر قیمتوں میں غیر متوقع تبدیلیاں آئیں تو دیگر سرمایہ کار بھی اسی طرح کے نقصانات کا سامنا کر سکتے ہیں، خاص طور پر وہ لوگ جو زیادہ لیوریج کا استعمال کرتے ہیں۔
یہ واقعہ کرپٹو کرنسی مارکیٹ کی غیر مستحکم فطرت کو اجاگر کرتا ہے اور سرمایہ کاروں کے لیے خطرے کی گھنٹی بھی بجاتا ہے کہ وہ اپنی سرمایہ کاری کی حکمت عملی احتیاط سے ترتیب دیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے