اوپن اے آئی نے کہا کہ اے آئی کوڈنگ مہارت ناپنے والا معیار ‘ملوث’ ہوگیا ہے—وجوہات جانئے

زبان کا انتخاب

اوپن اے آئی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے معروف اے آئی کوڈنگ مہارت کے بینچ مارک کو ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اس معیار میں ملوث عناصر نے اس کی افادیت کو متاثر کر دیا ہے۔ یہ بینچ مارک مصنوعی ذہانت کی کوڈنگ صلاحیتوں کو جانچنے کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے اور صنعتی معیار کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ تاہم، اب اس پر سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ آیا یہ اندازہ واقعی درست اور قابل اعتماد ہے یا نہیں۔
اوپن اے آئی ایک معروف تحقیقاتی ادارہ ہے جو مصنوعی ذہانت کے میدان میں اہم پیش رفت کر رہا ہے۔ اس کے تیار کردہ ماڈلز جیسے چیٹ جی پی ٹی اور کوڈ جی پی ٹی نے پروگرامنگ اور دیگر تخلیقی کاموں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان ماڈلز کی قابلیت جانچنے کے لیے مختلف بینچ مارکس استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ ان کی کارکردگی کو پرکھا جا سکے۔
تاہم، موجودہ بینچ مارک پر تنقید اس لیے کی جا رہی ہے کیونکہ اس میں شامل ڈیٹا اور سوالات ممکنہ طور پر پہلے سے ماڈلز کی تربیت میں شامل ہو چکے ہیں یا ان کے لیے آسان بنائے گئے ہیں۔ اس سے نتیجہ ملوث ہو جاتا ہے اور حقیقی دنیا کی کوڈنگ مہارت کا درست اندازہ نہیں ہوتا۔ نتیجتاً، صنعت کو اپنی ترقی اور صلاحیتوں کا جائزہ لینے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ مسئلہ ایک وسیع تر چیلنج کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح مصنوعی ذہانت کی کارکردگی کو پرکھنے کے لیے استعمال ہونے والے معیار اور ٹیسٹ خود ایک حد تک محدود اور غیر مکمل ہو سکتے ہیں۔ مستقبل میں ایسی جانچ کے طریقے وضع کرنا ضروری ہوگا جو زیادہ شفاف، جامع اور متحرک ہوں تاکہ حقیقی قابلیت کی بہتر عکاسی ہو سکے۔
اس تبدیلی کے بعد، تحقیق کار اور صنعت کے ماہرین نئے اور بہتر بینچ مارکس کی تلاش میں ہیں جو مصنوعی ذہانت کی کوڈنگ صلاحیتوں کو زیادہ مؤثر انداز میں پرکھ سکیں۔ اس سے مصنوعی ذہانت کی دنیا میں شفافیت اور اعتماد کو فروغ ملے گا اور ماڈلز کی حقیقی ترقی کا اندازہ لگانا آسان ہوگا۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے