بٹ کوائن کی امریکی طلب کا اشارہ ریکارڈ 40 دنوں سے منفی

زبان کا انتخاب

بٹ کوائن کی امریکی مارکیٹ میں طلب کا اشارہ گزشتہ 40 دنوں سے مسلسل منفی رہنے کا ریکارڈ قائم کر چکا ہے۔ یہ اشارہ آخری بار جنوری کے وسط میں مثبت ظاہر ہوا تھا، مگر فوری طور پر اس کے بعد اس میں بہتری نہیں آ سکی۔ فروری کے اوائل میں ایک مختصر بحالی دیکھی گئی، لیکن وہ مکمل طور پر مستحکم نہیں ہو سکی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی صارفین کی جانب سے بٹ کوائن کی طلب عارضی طور پر نہیں بلکہ ساختی طور پر کم ہے۔
بٹ کوائن، جو دنیا کی سب سے بڑی اور مشہور کرپٹو کرنسی ہے، ماضی میں سرمایہ کاروں اور صارفین کے لیے ایک اہم اثاثہ رہا ہے۔ تاہم، مختلف عوامل جیسے کہ ریگولیٹری عدم استحکام، معاشی غیر یقینی صورتحال، اور عالمی مالیاتی مارکیٹوں میں اتار چڑھاؤ نے اس کی طلب پر اثر ڈالا ہے۔ خاص طور پر امریکہ، جو کرپٹو کرنسی کے بڑے مارکیٹوں میں سے ایک ہے، وہاں طلب میں اس قدر کمی ایک تشویشناک علامت سمجھی جا رہی ہے۔
امریکی طلب کا منفی اشارہ نہ صرف بٹ کوائن کی قیمت پر دباؤ ڈال سکتا ہے بلکہ یہ مجموعی طور پر کرپٹو کرنسی مارکیٹ کے رجحانات پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ منفی رجحان برقرار رہتا ہے تو سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی کیونکہ اس سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ سکتی ہے۔
کرپٹو کرنسی کی دنیا میں طلب و رسد کا توازن قیمتوں کا تعین کرتا ہے اور امریکی مارکیٹ کی طلب میں کمی عالمی سطح پر بٹ کوائن کی قیمتوں میں عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا امریکی طلب میں کوئی مثبت تبدیلی آتی ہے یا یہ منفی سلسلہ جاری رہتا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف سرمایہ کاروں کی حکمت عملی متاثر ہوگی بلکہ کرپٹو مارکیٹ کی سمت کا تعین بھی ہو گا۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے