نائجیریا کے مرکزی بینک کی شرح سود میں نمایاں کمی کا منصوبہ، معیشت کی ترقی کے لیے اقدامات

زبان کا انتخاب

نائجیریا کا مرکزی بینک منگل کو اپنی سب سے بڑی شرح سود میں کمی کرنے والا ہے جو 2020 کے بعد کا سب سے بڑا اقدام ہوگا۔ اس فیصلے کی بنیادی وجوہات میں نائجیریا کی کرنسی ‘نایرا’ کی مضبوطی، مہنگائی کی شرح میں کمی اور بیرونی زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ شامل ہیں۔ ان عوامل نے پالیسی سازوں کو معیشت کی ترقی کی حمایت کے لیے بہتر مواقع فراہم کیے ہیں۔
شرح سود میں کمی کا مقصد قرض لینے کو آسان اور سستا بنا کر سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے، تاکہ ملک کی اقتصادی سرگرمیوں میں تحریک آئے اور معیشت کی مجموعی کارکردگی بہتر ہو۔ نائجیریا، جس کی معیشت تیل کی پیداوار پر بہت حد تک منحصر ہے، حالیہ برسوں میں مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے جن میں مہنگائی، کرنسی کی غیر مستحکم قیمت اور بیرونی سرمایہ کاری کی کمی شامل ہیں۔ اس پس منظر میں، مرکزی بینک کا یہ اقدام ملک کی معاشی استحکام اور ترقی کی راہ ہموار کرنے کی کوششوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
گزشتہ سالوں میں نائجیریا کی معیشت نے مختلف مالیاتی دباؤ دیکھے ہیں، لیکن کرنسی کی قدر میں استحکام اور مہنگائی کی شرح میں کمی نے مرکزی بینک کو شرح سود میں کمی کا موقع دیا ہے۔ اس سے نہ صرف مقامی کاروباروں کو فائدہ پہنچے گا بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے بھی نائجیریا ایک پرکشش جگہ بن سکتی ہے۔ تاہم، شرح سود میں کمی کے بعد بھی مہنگائی کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کرنا ضروری ہوگا تاکہ معیشت میں توازن قائم رہے۔
ماہرین کے مطابق، اگرچہ شرح سود میں کمی معیشت کو سہارا دے سکتی ہے، لیکن اس کے اثرات کا اندازہ آنے والے مہینوں میں ہی ممکن ہوگا۔ اقتصادی استحکام کے لیے دیگر مالیاتی اور معاشی اصلاحات کی بھی ضرورت ہوگی تاکہ نائجیریا اپنی ترقی کی رفتار کو مزید مستحکم کر سکے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش